نارسائی

رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ

پون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پات

دل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھ

رہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات؟

 

برکھا رت ہے اور جوانی لہروں کا طوفان

پیتم ہے نادان مرا دل رسموں سے انجان

کوئی نہیں جو بات سجھائے کیسے ہوں سامان؟

بھگون مجھ کو راہ دکھا دے مجھ کو دے دے گیان

 

چپو ٹوٹے ناؤ پرانی دور ہے کھیون ہار

بیری ہیں ندی کی موجیں اور پیتم اس پار

سن لے سن کے دکھ میں پکارے اک پریمی بچارا

کیسے جاؤں کیسے پہنچوں کیسے جتاؤں پیار؟

 

کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگ؟

کیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ؟

بات کی گھڑیاں بیت نہ جایں دور ہے اس کا دیس

دور دیس ہے پیتم کا اور میں بدلے ہوں بھیس

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

(برگد جیسے لوگوں کے نام)
رُخصتی
بیادِ قائدِ اعظمؒ (بسلسلۂ جشنِ صد سالہ 1977ء)
معراج نامہ از امام احمد رضا خان بریلوی
چل چلاؤ
دیوداسی اور پجاری
عشق