نازاں رہے کہ رقص میں ہے باد گردِ دل

نازاں رہے کہ رقص میں ہے باد گردِ دل

جب رقص تھم چکا تو اُڑی خوب گردِ دل

 

اک عمر ریگ زارِ محبت کو سونپ دی

اک عرصہِ حیات کیا رہنِ دردِ دل

 

ہم نے رفو کیا ہے بدن تیرے تیر سے

رنگین کی ہے خون کی چھینٹوں سے فردِ دل

 

وہ خوف جا گزین ہوا بزمِ عشق میں

دھڑکن کو کھا گئی ہے کوئی آہِ سردِ دل

 

تم کو خبر کہاں تھی منازل کی رونقو

رستوں میں کھو گیا کوئی صحرا نوردِ دل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
اب کہاں دستِ حنائی ہے کہ جو رنگ بھرے
شوق اب وحشت میں داخل ہو رہا ہے
اگرچہ روزِ ازل سے ہے میرا فن لکھنا
تم نہ عریاں ہوئے غنیمت ہے
اٹکا ہے بڑی دیر سے خوش فہم کا دم بھی
دشتِ ویران میں آوازِ جرس باقی ہے
اُڑے ہیں ہوش مرے میں ہوں غرقِ بادۂ ناب