اردوئے معلیٰ

نالۂ درد مرا زود اثر ہو جائے

نالۂ درد مرا زود اثر ہو جائے

کاش آقا کی مری سمت نظر ہو جائے

 

ہجرِ طیبہ میں گریں آنکھ سے جتنے آنسو

کرمِ شاہ سے ہر ایک گُہر ہو جائے!

 

خواب دیکھوں تو مدینے کی زمیں کے دیکھوں

دل بھی طیبہ کی کوئی راہ گزر ہو جائے!

 

وہ جو چاہیں تو یہ اِدبار کی گھڑیاں ٹل جائیں

چند لمحوں میں مری شب کی سحر ہو جائے!

 

جب بھی مداحِ نبی نعت میں کچھ حرف لکھیں

ان کی نسبت سے ہر اِک حرف اَمر ہو جائے!

 

پیشِ طاغوتِ زماں جذبۂ ایمانی سے

کَلِمَہ گوئے نبی کاش نِڈر ہو جائے!

 

حاضری یوں تو کئی بار ہوئی ہے احسنؔ

وہ بلا لیں تو سفر بارِ دِگر ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ