نامور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کا یومِ پیدائش

آج نامور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کا یومِ پیدائش ہے۔

ساحر لدھیانویساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا، وہ 8 مارچ1921ء لدھیانہ کے ایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔
طالبِ علمی کے زمانے میں ہی ان کا شعری مجموعہ تلخیاں شائع ہوچکا تھا، جس نے اشاعت کے بعد دھوم مچا دی تھی۔
سن 1949 میں ساحر لدھیانوی لاہور سے بمبئی گئے اور اسی سال ان کی پہلی فلم ‘آزادی کی راہ’ ریلیز ہوئی۔
لیکن اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950 میں فلم نوجوان میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو نصیب ہوئی ان میں سے ایک گانے ‘ٹھنڈی ہوائیں’ کی دھن تو ایسی ہٹ ہوئی کہ عرصے تک اس کی نقل ہوتی رہی۔
ایس ڈی برمن اورساحر لدھیانوی کی جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں کام کیا جو آج بھی یادگار ہے، ان فلموں میں بازی، جال، ٹیکسی ڈرائیور، ہاؤس نمبر 44، منیم جی اور پیاسا وغیرہ شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : پنجابی زبان کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار وارث لدھیانوی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر لدھیانوی کی دوسری سب سے تخلیقی شراکت روشن کے ساتھ تھی، خصوصاً فلم ‘برسات کی رات’ کے گانوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی تھی۔ اس فلم کا گانا زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات سال کا مقبول ترین نغمہ قرار پایا۔
اس کے علاوہ اسی فلم کی قوالی، نہ تو کارواں کی تلاش ہے نہ تو ہمسفرکی تلاش ہے، آج بھی فلمی دنیا کی سب سے مقبول قوالی سمجھی جاتی ہے۔
ساحر لدھیانوی نے کئی دوسرے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا:
ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی، نیلے گگن کے تلے، چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو، میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی، میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں، دامن میں داغ لگا بیٹھے، ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں، میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا اور رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی جیسے مقبول گیت شامل ہیں۔
گرودت کی ‘پیاسا’ اور یش راج کی ‘کبھی کبھی’ کی کہانی ساحر لدھیانوی کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔
کبھی کبھی کے گیت کون بھول سکتا ہے جیسے کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے یا میں پل دو پل کا شاعر ہوں۔
انھوں نے اپنی فنی زندگی میں دوبار فلم فیئر ایوارڈ جیتے، جس میں پہلا 1964 میں فلم ‘تاج محل’ کے گیت جو وعدہ کیا وہ بنھانا پڑے گا اور دوسرا کبھی کبھی کی شاعری پر 1977 میں اپنے نام کیا۔
(حسن پرست اور عاشق مزاج ساحر لدھیانوی نے شادی نہ کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ”کچھ لڑکیاں مجھ تک دیر سے پہنچیں اور کچھ لڑکیوں تک میں دیر سے پہنچا“ اس کا اظہار ان کے گیتوں”جسے توقبول کرلے، وہ ادا کہاں سے لاوٴں“، ”تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے“ سے ہوتا ہے۔ امرتا پریتم نے ساحر لدھیانوی کو ٹوٹ کرچاہا۔ جی جان سے چاہا۔ ساحر لدھیانوی امرتا کے دل کی آواز نہ سن سکا۔ امروز سے شادی کے بعد بھی امرتا پریتم اسے نہ بھول سکی۔ ایک بار امرتا کے بیٹے نے ماں سے سوال کیا۔ ”ماں کیا میں ساحر کا بیٹا ہوں“ امرتا نے جواب دیا ”کاش یہ سچ ہوتا“۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ساحر پل دو پل کے شاعر نہیں تھے اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ کارِ زیاں نہیں تھا۔)
اس لیے برسوں گزر جانے کے باوجود ان کے نغمے آج بھی عوام کے درمیان مقبول ہیں، 25 اکتوبر 1980 کو اس البیلے شاعر کا ممبئی میں انتقال ہوا۔
ساحر نے دنیا کو اور کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو خواب ضرور دئیے ہیں، وہ خواب جو بڑی تبدیلی کا باعث ہوتے ہیں۔
خواب اگر مرجائیں تو دنیا ایک بے کیف اور بنجر ویرانے میں تبدیل ہوجائے ساحر لدھیانوی ہمیں جس صبح کی امید دلاتا رہا وہ صبح ابھی آئی تو نہیں لیکن آئے گی ضرور۔
۔۔۔۔۔۔۔
منتخب اشعار
۔۔۔۔۔۔۔
پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلہ
دیکھیے ، آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو
۔۔۔۔۔۔۔
ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں
کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : پنجابی زبان کی نامور شاعرہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار
بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے
۔۔۔۔۔۔۔
بس اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو
بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے
۔۔۔۔۔۔۔
تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو
برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے
۔۔۔۔۔۔۔
محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
زمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے
۔۔۔۔۔۔۔
کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے
ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے
۔۔۔۔۔۔۔
حیات اک مستقل غم کے سوا کچھ بھی نہیں شاید
خوشی بھی یاد آتی ہے تو آنسو بن کے آتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔
ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوۓ آنسو توبہ
میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست
سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
۔۔۔۔۔۔۔
لو آج ہم نے توڑ دیا رشتہء امید
لو اب کبھی گلا نہ کریں گے کسی سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار کم تو کر گۓ گزرے جدھر سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
مایوسئی مآل محبت نہ پوچھیۓ
اپنوں سے پیش آۓ ہیں بیگانگی سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔
بَشرطِ استواری
خُونِ جمہور میں بھیگے ہُوئے پرچم لے کر
مجھ سے افراد کی شاہی نے دُعا مانگی ہے
صُبح کے نُور پہ تعزِیز لگانے کے لیے
شب کی سنگِین سیاہی نے وَفا مانگی ہے
اور یہ چاہا ہے کہ میں قافلۂ آدم کو
ٹوکنے والی نِگاہوں کا مددگار بنُوں
جس تصوّر سے چراغاں ہے سرِ جادۂ زِیست
اُس تصوِیر کی ہزِیمت کا گنہگار بنُوں
ظلم درپردہ قوانین کے ایوانوں سے
بیڑیاں تکتی ہیں، زنجیر صدا دیتی ہے
طاقِ تادِیب سے اِنصاف کے بُت گھُورتے ہیں
مسندِ عدل سے شمشیر صدا دیتی ہے
لیکن اے عظمتِ اِنساں کے سُنہرے خوابو
میں کسی تاج کی سطوت کا پرِستار نہیں
میرے افکار کا عنوانِ اِرادت تم ہو
میں تمھارا ہُوں، لُٹیروں کا وَفادار نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادِ رفتگاں
پھر وہ عزیز و اقربأ
جو توڑ کر عہد وفا
احباب سے منہ موڑ کر
دنیا سے رشتہ توڑ کر
حدِّافق سے اس طرف
رنگِ شفق کے اس طرف
اِک وادئ خاموش کی
اِک عالمِ مدہوش کی
گہرائیوں میں سو گئے
تاریکیوں میں کھو گئے
ان کا تصور ناگہاں
لیتا ہے دل میں چٹکیاں
اور خوں رلاتا ہے مجھے
بے کل بناتا ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
رُوح بھی ہوتی ہے اُس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
رُوح کیا ہوتی ہے اِس سے اُنہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں
رُوح مرجائے، تو ہر جسم ہے چلتی ہوئی لاش
اِس حقیقت کو سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں
کئی صدیو ں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے
کئی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج
لوگ عورت کی ہر اِک چیخ کو نغمہ سمجھیں
وہ قبیلوں کا زمانہ ہو، کہ شہروں کا سماج
جبر سے نسل بڑھے، ظلم سے تن میل کرے
یہ عمل ہم میں ہے، بے علم پرندوں میں نہیں
ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
۔۔۔۔۔۔۔
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ، یا لاشۂ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں‌کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اوڑھاتی رہیں ظلمت کا نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمتِ ناکارہ و رسواسے کہو
جبر کی حکمتِ پرکارکے ایماسے کہو
محملِ مجلسِ اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ہے ‘ دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہء تند ہے ‘خرمن پہ لپک سکتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں‌سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں‌ سے
ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے
۔۔۔۔۔۔۔
مادام
آپ بے وجہ پریشان سی کیوں‌ ہیں مادام؟
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے
نورِ سرمایہ سے ہے روئے تمدّن کی جِلا
ہم جہاں ‌ہیں وہاں‌ تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِّ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں‌ میں نہیں ڈھل سکتی
لوگ کہتے ہیں تو لوگوں ‌پہ تعجب کیسا؟
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں۔۔۔ مگر آپ ابھی تک چپ ہیں
آپ بھی کہیے، غریبوں میں شرافت کیسی
نیک مادام! بہت جلد وہ دَور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں گے
اپنی ذلت کی قسم! آپ کی عظمت کی قسم!
ہم کو تعظیم کے میعار پرکھنے ہوں گے
ہم نے ہر دور میں تذلیل سہی ہے، لیکن
ہم نے ہر دور کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
ہم نے ہر دور میں ‌محنت کے ستم جھیلے ہیں
ہم نے ہر دور کے ہاتھوں ‌کو حنا بخشی ہے
لیکن ان تلخ مباحث سے بھلا کیا حاصل؟
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں‌ گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میں جہاں ‌ہوں، وہاں انسان نہ رہتے ہوں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاوں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
عجب نہ تھا کہ میں بے گانہء الم ہو کر
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
ترا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں
انہیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں ترا غم، تری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے
مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں
نہ کوئی جادہء منزل نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رہی ہے خلاوں میں زندگی میری
انہی خلاوں میں رہ جاوں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ہوں کہ مری ہم نفس مگر یونہی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
تاج محل
تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
۔۔۔۔۔۔۔
خوبصورت موڑ
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کر
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
ترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں
انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے
مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سے
نہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری
انہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حمید کاشمیری کا یوم وفات
نامور شاعر ریاضؔ خیر آبادی" شاعر خمریات" کی برسی
معروف شاعر اور گیت نگار نقش لائلپوری کا یومِ وفات
ممتاز شاعر ، ادیب گویا جہان آبادی کا یوم وفات
ممتاز شاعر ڈااکٹر معین احسن جذبیؔ کا یومِ پیدائش
ادبی دنیا کی معروف شخصیت محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کا یوم پیدائش
نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات
ممتاز شاعر، اور براڈ کاسٹر تابش دہلوی کا یوم وفات
معروف ادیب گیان چند جین کا یوم پیدائش
معروف شاعر انیس ناگی کا یومِ وفات

اشتہارات