نامور شاعر نادر کاکوری کی برسی

آج نامور شاعر نادر کاکوری کی برسی ہے

نادر کاکوروینادر کا پورا نام شیخ نادر علی تھا۔وہ کاکوری کے مشہور عباسی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔۱۸۶۷ء میں پیدا ہوےٗ۔اُن کے والد کا نام شیخ حامد علی اور دادا کا شیخ طالب علی تھا۔ نادر کاکوری کے ذاتی حالات بہت کم ملتے ہیں،دنیا نے اُنھیں فراموش کر دیا ہے،شاید
اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا انتقال ۲۰ اکتوبر ۱۹۱۲ء کو عین جوانی کے عالم میں ہوا اور لوگوں نے ان کی ذات سے جو امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ یک دم خاک میں مل گئیں، مگر نادر کاکوری ساری عمر اس بات کے گلہ مند رہے کہ انھیں سازگار ماحول میسر نہ آیا،کوئی قدردانِ سخن نہ مل سکا:
۔۔۔۔۔۔۔۔
نادر افسوس! قدردانِ سخن
ایک ہندوستان میں نہ رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ وہ کسی سے کچھ کہہ سکے،نہ کوئی ان کی بات سمجھ سکا:
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ،وہ ہم کس سے کہیں
ہاےٗ جو جی پر گزرتی ہے،وہ ہم کس سے کہیں
نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدر انجمن
آپ کو کہنا ہو جو کچھ اہلَ مجلس سے کہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سمجھا تھا مرے حق میں دعائے خیر کرتے ہو
مجھے تم کوستے ہو ہمدمو،اندھیر کرتے ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔
دراصل وہ زمانہ ایسا تھا کہ ہندستان میں ہنر کا قدردان ہی کوئی نہ تھا اور اگر تھا بھی تو اپنے فرائض سے غافل تھا۔علامہ اقبال بھی انھی حالات سے گذر رہے تھے۔وہ خود کہتے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔
ذوقِ گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں
میرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : یہ جلاد موسم یہ قاتل بہاریں پھر اس پر گلابی گلابی پھواریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لحاظ سے دونوں شاعر ایک ہی کشتی میں سوار تھے۔ان کی سوچ کے دھارے بھی یکساں ہی تھے۔چناچہ نادر کاکوری نے اپنی نظم ؛شاعری؛ میں ایک شعر یوں کہا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔
تو مرے قابل نہیں ہے،میں ترے قابل نہیں
مجھ کو جو سامان ہیں درکار،وہ حاصل نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پہلا مصرعہ یا تو اقبال کے ایک مصرعہ سے ٹکرا گیا ہے یا تضمین کیا گیا ہے۔ اقبال نے اپنی نظم ؛رخصت اے بزمِ جہاں؛ میں یوں کہا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔
رخصت اے بزمِ جہاں سوئے وطن جاتا ہوں میں
آہ! اس آباد ویرانے مین گھبراتا ہوں میں
بسکہ افسردہ دل ہوں، درخودِ محفل نہیں
تو مرے قابل نہیں ہے، میں ترے قابل نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
نادر کاکوری کو البتہ اس بات کا افسوس ہے کہ وہ قوم کو کوئی پیغام نہ دے سکے فرماتے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔
شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے
ابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہے
یہ دنیا جاےٗ آسائش نہیں ہے،آزمائش ہے
یہاں جو سختیاں تجھ پر پڑیں انگیز کرنا ہے
غزل خوانی کو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔ
تجھے یاں وعظ کہنا، پندِ سود آمیز کرنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نامور ریڈیو براڈ کاسٹر اور شاعر زیڈ اے بخاری کا یومِ وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر موت انھیں مہلت دیتی تو شاید وہ دنیا کو کوئی سود مند پیغام دے جاتے،مگر اب تو ان کے ذاتی جوہر ہی نہیں پہچانے جا سکے اور دنیا نے بھی انھیں وہ کچھ نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔لے دے کے ایک اقبالؔ تھے کہ وہ اپنا رازِ دل بتا سکتے تھے۔انھی کی طرف وہ نظریں اُٹھا ا‘ٹھا کے دیکھتے تھے اور کبھی کبھی ان کی آواز میں آواز ملاتے تھے،چناچہ اقبالؔ کی نظم ؛شمع؛ دسمبر ۱۹۰۲ء کے مخزن مین شائع ہوئی جو اسطرح شروع ہوتی ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔
بزمِ جہاں میں میں بھی ہوں اے شمع! دردمند
فریاد درگرہ صفتِ دانہٗ سپند
دی عشق نے حرارتِ سوزِ دروں تجھے
اور گل فروشِ اشکِ شفق گوں کیا مجھے
ہو شمعِ بزمِ عشق کہ شمعِ مزار تو
ہر حال اشکِ غم سے رہی ہم کنار تو
۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اس سے متاثر ہو کر نادر کاکوری نے نظم ؛شمع مزار؛ لکھی جو ؛خدنگِ نظر؛ میں ماہِ جنوری ۱۹۰۳ء میں شائع ہوئی۔اس میں نادر کاکوری نے بھی اپنے آپ کو اقبال کی طرح دردمند ظاہر کیا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹھی ہے کس سکوت میں شمعِ مزار تو؟
اے شمع کس شہید کی ہے تکیہ دار تو؟
کیا تیرا دل بھی میری طرح درد مند ہے؟
تجھ کو بھی کنجِ شاِ غریبی پسند ہے؟
اس تیرہ روزگار و پُرآشوب دور میں
دو تیرے درد مند ہیں اقبال اور میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں کویئ شک نہیں کہ نادر کاکوری کی شاعری کی عمر بہت کم رہی کیونکہ ۲۰ اکتوبر ۱۹۱۲ء کو پنتالیس برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا، لیکن وہ اپنے زمانے کے اچھے پڑھے لکھے، باوضع ، نیک نہاد، شگفتہ مزاج، ملنسار اور محبِ وطن انسان تھے۔ انگریزی زبان و ادب کے رموز و نکات سے خوب واقف تھے، انھوں نے لارڈ بائرن اور سر ٹامس کی بعض انگریزی نظموں کے نہایت لاجواب منظوم ترجمے کیے۔ طبعِ خداداد کے جوہر بھی دکھائے اور نیچر کی شاعری کے کئی قابلِ قدر نمونے بھی یادگار چھوڑے۔
ان کی شاعری میں بلا کی سادگی اور پُرکاری ہے، غرض:
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس خرابے سے کوئی گزرا ہے نادرؔ نام بھی
جابجا دیوار پر اشعار ہیں لکھے ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔
نادرؔ اپنی رفیقۂ حیات کے انتقال کے بعد رنجور و مغموم رہتے تھے۔ اس زمانے کے کلام میں حقائق حیات اور درد و سوز کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار ان کے وارداتِ قلبی کا حقیقی عکس ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔
نوا سنجی کو کیا کچھ بلبلیں اس باغ میں کم تھیں
مجھے تکلیف ناحق دی چمن پیرائے عالم نے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اے چارہ گر! دوا کر، سودا تجھے ہوا ہے
مجھے کو سنبھالتا ہے، اب مجھ میں کیا رہا ہے
دل ہے مگر کہاں اب اس میں ہجومِ ارماں
گھر رہ گیا ہے لیکن اُجڑا ہوا پڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اب نہ حسرت، نہ یاس ہے دل میں
کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا
کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک
ممال ہی جب دکان میں نہ رہا
مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ
جیتے جی جس مکان میں نہ رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف نغمہ نگار اسد بھوپالی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفات سے کچھ دن قبل مرضِ خناق میں مبتلا ہو گےٗ تھے۔ لکھنؤ کے مشہور ڈاکٹروں سے مشورہ کیا مگر کوئی علاج پوری طرح سودمند نہ ہوا۔آخر کار حافظ عبدالکریم سب اسسٹنٹ سرجن ملیح آباد نے آپریشن کیا ۔گردون پر نشتر سے شگاف کیا جا چکا تھا مگر نادر کے حوصلے اور ضبط کی کیفیت یہ تھی کہ اس وقت بھی اپنے دکھ درد سے بے نیاز فکرِ سخن میں محو تھے،آپریشن کے بعد اپنے ہم وطن دوست مولانا صفیر بلگرامی کو اپنے حال کی اطلاع دیتے ہوےٗ لکھا:
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوتے ہیں بیمار سب، پر تم نے سادھی ایسی چُپ
حال بھی کہتے نہیں نادر، تم اپنا صاف صاف
ہائے میں کم بخت حال اپنا کہوں تو کیا کہوں
ایک زخم اندر گلے کے،اور ایک باہر شگاف
۔۔۔۔۔۔۔۔
نزع کی شب نادر کے چھوٹے بھائی مولوی شاکر علی نے، جو ان کی تیمارداری کر رہے تھے،ایک مصرع پڑھا:
قفس میں مرگ بسمل یوں تڑپنے کا مزا کیا ہے
نادرؔ نے سنتے ہی فی البدیہہ مصرعِ ثانی کہہ کے شعر مکمل کر دیا:
۔۔۔۔۔۔۔۔
قفس میں مرغِ بسمل یوں تڑپنے کا مزا کیا ہے؟
نکل جانِ حزیں اس جسمِ خاکی میں دھرا کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
نادرؔ نے آزادؔ اور حالیؔ کے لگاےٗ ہوےٗ نظمِ جدید کے پودے کی خونِ دل سے آبیاری کی اور مغربی خیالات اور انگریزی کی لطافتوں کو نہایت سلیقے سے اردو میں سمونے کی کامیاب کوشش کی، ان کی بعض نظمیں بہت مقبول ہوئیں؛ مثلا رات کے بے چین لمحے،اے ہمصفیر میرے سینے میں دل نہیں، اکثر شبِ تنہائی میں،بوڑھے دنیا پرست کی موت،حسن و عشق،شمع و پروانہ، شعاعِ امید۔پیکرِ زبان،فلسفہٗ شاعری، سیرِ دریا وغیرہ۔
ان کے کلام کا مجموعہ (جذباتِ نادر) کے نام سے دو حصوں میں شائع ہو چکا ہے، سر ٹامس مور کی مشہور کتاب(لائٹ آف دی حرم) کی طرز پر ایک مثنوی بھی لکھی تھی جس کا نام انھوں نے (لالہ رخ) رکھا تھا۔
یہ بھی اب جذباتِ نادر میں شامل ہے۔اتنا کچھ کہنے کے باوجود ان کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔اس کو اگر کسی نے پہچانا تو وہ صرف اقبالؔ کا دلِ درد مند اور ذوقِ آشنائی تھا۔
اقبال نے انھیں اپنا (ہم سخن) اور (ہم صغیر) کہہ کر (تثلیت فی التوحید) میں شامل کیا۔ گویا اقبال کے نزدیک نادر اور نیرنگ شاعری میں انھی کے خاندان کے فرد تھے:
۔۔۔۔۔۔۔۔
نادرؔ و نیرنگؔ ہیں اقبالؔ مرے ہم صفیر
ہے اسی تثلیث فی التوحید کا سودا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو نہیں سکتا کہ یہ محبت اور قدر افزائی یک طرفہ ہو اور ان ہم آوازوں میں دلوں کا تبادلہ نہ ہوتا ہو۔
میر غلام نیرنگؔ بھیک کے نام تو اقبالؔ کے چند خطوط مل بھی جاتے ہیں مگر افسوس! کہ نادرؔ کے نام اقبالؔ کا کوئی خط ہم تک نہیں پہنچ سکا۔بہرحال یہ تو اقبال کے شعر ہی سے ظاہر ہے کہ نادر کاکوری نہایت اخلاص اور عقیدت کو دور ہی سے دیکھتے رہے اور ملنے کی حسرت اپنے ساتھ قبر ہی میں لے گےٗ:
۔۔۔۔۔۔۔۔
پاس والوں کو تو آخر دیکھنا ہی تھا مجھے
نادرِ کاکوری نے دور سے دیکھا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دلِ صد چاک پر
وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب
دل کا کنول جو روز و شب
رہتا شگفتہ تھا سو اب
اسکا یہ ابتر حال ہے
اک سبزۂ پا مال ہے
اک پھو ل کُملایا ہوا
ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا
روندا پڑا ہے خاک پر
یوں ہی شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی ناکامیاں
بیتے ہوئے دن رنج کے
بنتے ہیں شمعِ بےکسی
اور ڈالتے ہیں روشنی
ان حسرتوں کی قبر پر
جوآرزوئیں پہلے تھیں
پھر غم سے حسرت بن گئیں
غم دوستو ں کی فوت کا
ان کی جواناں موت کا
لے دیکھ شیشے میں مرے
ان حسرتوں کا خون ہے
جو گرد شِ ایام سے
جو قسمتِ ناکام سے
یا عیشِ غمِ انجام سے
مرگِ بتِ گلفام سے
خود میرے غم میں مر گئیں
کس طرح پاؤں میں حزیں
قابو دلِ بےصبر پر
جب آہ ان احباب کو
میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے
جس طرح طائر باغ کے
یا جیسے پھول اور پتیاں
گر جائیں سب قبل از خزاں
اور خشک رہ جائے شجر
اس وقت تنہائی مری
بن کر مجسم بےکسی
کر دیتی ہے پیشِ نظر
ہو حق سااک ویران گھر
ویراں جس کو چھوڑ کے
سب رہنے والے چل بسے
ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں
چھت کے ٹپکنے کے نشاں
پرنالے ہیں روزن نہیں
یہ ہال ہے، آ نگن نہیں
پردے نہیں، چلمن نہیں
اک شمع تک روشن نہیں
میرے سوا جس میں کوئی
جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
وہ خانۂ خالی ہے دل
پو چھے نہ جس کو دیو بھی
اجڑا ہوا ویران گھر
یوں ہی شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر
اس نظم کو استاد امانت علی خان اور ریشماں نے بھی گایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : مشہور و معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے
ابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہے
یہ دنیا جائے آسائش نہیں ہے آزمائش ہے
یہاں جو سختیاں تجھ پر پڑیں انگیز کرنا ہے
غزل خوانی کو تو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔ
تجھے یاں وعظ کہنا پند سود آمیز کرنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیں
ہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیں
مانع عرض تمنا کیوں نہ ہو رشک رقیب
ان سے ہم کہنے نہ پائیں ان کے مونس سے کہیں
نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدر انجمن
آپ کو کہنا ہو جو کچھ اہل مجلس سے کہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کر
زمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کر
مرے نقش قدم نے راہ میں کانٹے بچھائے ہیں
بتائیں تو وہ گھر غیروں کے جائیں گے کہاں ہو کر
خدا سے سرکشی کی پیر زاہد اس قدر تو نے
کہ تیرا تیر سا قد ہو گیا ہے اب کماں ہو کر
کوئی پوچھے کہ میت کا بھی تم کچھ ساتھ دیتے ہو
یہ آئے مرثیہ لے کر وہ آئے نوحہ خواں ہو کر
ارادہ پیر زاہد سے ہے اب ترکی بہ ترکی کا
کسی بھٹی پہ جا بیٹھوں گا میں پیر مغاں ہو کر
تلاش یار کیا اور سیر کیا اے ہم نشیں ہم تو
چلے اور گھر چلے آئے یہاں ہو کر وہاں ہو کر
سخنؔ کی بزم میں نادرؔ اسی کے سر پہ سہرا ہے
رہا جو ہم نوائے بلبل ہندوستاں ہو کر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف شاعر رئیس فروغ کی برسی
نامور شاعر ماہر القادری کا یومِ پیدائش
معروف شاعر شاذ تمکنت کا یومِ وفات
ادبی دنیا کی معروف شخصیت محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کا یوم پیدائش
معروف شاعر اورماہر لسانیات شان الحق حقی کا یوم پیدائش
معروف ادیب سید الطاف علی بریلوی کا یوم پیدائش
معروف شاعر اثر بہرائچی کا یوم پیدائش
معروف شاعر ندا فاضلی کا یومِ پیدائش
معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا یومِ وفات
معروف شاعر ظہیر غازی پوری کا یوم پیدائش