اردوئے معلیٰ

Search

ناموسِ مصطفیٰ پہ سبھی کچھ نثار ہے

آقا پہ مٹنے والوں کا مشکل شمار ہے

 

’’میرے وجود میں ترے خوں کا فشار ہے‘‘

مدّت سے تیری دید کو دل بے قرار ہے

 

دیدار ہو گا قبر میں محبوب پاک کا

آئے گا کب وہ وقت یہی انتظار ہے

 

کتنے برس ہوئے کہ چھوا تھا ایک بار

جالی کے ان کی لمس کا اب تک خمار ہے

 

جیون کا کیا بھروسہ کہ جی لیں گے کب تلک

آقا کے شہر جان دوں دل کی پکار ہے

 

ایماں ہے وارثیؔ کا کہ آقا بلائیں گے

اذنِ سفر کا ہی فقط اب انتظار ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ