اردوئے معلیٰ

Search

 

نامِ شاہِ امم دل سے لف ہو گیا

نعت لکھنا ہی میرا شغف ہو گیا

 

نعت میں جڑ کے ہونے لگا ضو فشاں

میرا ہر حرف درِ نجف ہو گیا

 

جلوہ گر ہو گیا چاند میلاد کا

ذکرِ صلِ علےٰ ہر طرف ہو گیا

 

جب نظر پڑ گئی تیری درگاہ پر

ایسے دھڑکا مرا دل کہ دف ہو گیا

 

جب ارادہ کیا نعتِ سرکار کا

ایک اک حرف خود صف بہ صف ہو گیا

 

ملتوی ہو گئے سب ارادے مرے

کوئے سرکار میرا ھدف ہو گیا

 

لطف ایسا کیا مجھ پہ سرکار نے

بے ہنر مجھ سا خامہ بکف ہو گیا

 

ہو گیا جس پہ لطف و کرم شاہ کا

وہ خذف بھی یکا یک صدف ہو گیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ