نامۂ تخلیق پر نقشِ بقا، غارِ حِرا

نامۂ تخلیق پر نقشِ بقا، غارِ حِرا

تا ابد رَس گھولتی زندہ صدا، غارِ حِرا

 

آتشیں سورج کی زد میں تھی حجَر کی بے بسی

تن گئی تسکین کی نُوری ردا، غارِ حِرا

 

بے حسی اور جہل کے پنجوں میں جکڑی سوچ پر

علم اور عرفان کا مصحف کھُلا، غارِ حِرا

 

سر بسر اقرا بہ کف مہکا گُلستانِ کرم

مَیں نے سینے پر ابھی لکھا ہی تھا، غارِ حِرا

 

ایک ایسی زندگی بھی ہے حیاتِ نُور میں

جس میں جلتا ہے فقط تنہا دِیا، غارِ حِرا

 

نقش ہیں چھاتی پہ جس کی سیدہ کے نقشِ پا

عُزلتِ خاموش میں قُربت نما، غارِ حِرا

 

سوچتا ہُوں، نُور ہے یا نُور کا احساس ہے

آنکھ سے دل تک رواں موجِ ضیا، غارِ حِرا

 

دیکھتا ہو گا تجھے کعبہ بھی کتنے شوق سے

مہبطِ نُورِ مبیں، کُنجِ عُلا، غارِ حِرا

 

حرف سے ہوتیں نہیں ترقیم تیری طلعتیں

خامۂ احساس پر ہی جگمگا، غارِ حِرا

 

عہدِ رفتہ کی تجلی، عہدِ آئندہ کی ضَو

نعت کی صورت مرے شعروں میں آ، غارِ حِرا

 

روشنی اوراد کرتی ہے کفِ مقصودؔؔ میں

لکھتا ہے جذبِ رواں غارِ حِرا ، غارِ حِرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

انجامِ طلب ، خواہشِ دیدار ہوا دل
طیبہ میں جاکے گلشن و گلزار دیکھئے
پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے رکھنا
مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے
مری ہر نعت کا لہجہ نیا اوّل سے آخر تک
آپ کا ذکر ہونٹوں پہ ہے دم بدم
اب اپنی ذندگی اور فن کا مقصد لکھ رہا ہوں میں
جمالِ عرشِ معلیٰ بِنائے ہفت اقلیم
بہ چشمِ تر وہ مرا لوٹنا مدینے سے
رحمتِ دو جہاں ، سیدِمرسلاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپ کے

اشتہارات