نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں

ہر قدم پر تجھے سجدے بھی کئے جاتا ہوں

 

کوئی دنیا میں مرا مونس و غمخوار نہیں

تیری رحمت کے سہارے پہ جئیے جاتا ہوں

 

تیرے اوصاف میں اک وصف خطا پوشی ہے

اس بھروسے پہ خطائیں بھی کئے جاتا ہوں

 

آزمائش کا محل ہو کے مسرت کا مقام

سجدۂ شکر بہرحال کئے جاتا ہوں

 

زندگی نام ہے اللہ پہ مر مٹنے کا

یہ سبق سارے زمانے کو دیئے جاتا ہوں

 

صبر کرنا ہے تری شان کریمی کو عزیز

میں یہی سوچ کے آنسو بھی کئے جاتا ہوں

 

ہر گھڑی اس کی رضا پیش نظر ہے اقبال

شکر ہے ایک سلیقے سے جیے جاتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بندہ تیرا دراصل گناہ گار بہت ہے
تیرا ہی ہرطرف یہ تماشا ہے اے کریم
حمد و ثنا سے بھی کہیں اعلیٰ ہے تیری ذات
دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
شعور و آگہی، فکر و نظر دے
خدا اعلیٰ و ارفع، برگزیدہ
خدا مجھ کو شعورِ زندگی دے
میں بے نام و نشاں سا اور تو عظمت نشاں مولا
خدا ہی بے گماں خالق ہے سب کا
خدا آفاق کی روحِ رواں ہے

اشتہارات