اردوئے معلیٰ

Search

نام جب اُن کا لکھا ہو گیا بہتر کاغذ

اُن کے اوصاف کی خوشبو سے معنبر کاغذ

 

سادہ تھا ، چھپ گیا جب اُس پہ قرآنِ اکرم

بن گیا دیکھو مقدّر کا سکندر کاغذ

 

شاخِ طوبیٰ کے قلم سے ہو رقم نعتِ نبی

تو لکھوں لالہ و گل کے میں بنا کر کاغذ

 

جس پہ سرکار کا فرمان ہوا ہے مرقوم

ہے وہ لاریب! بڑا دل کش و سُندر کاغذ

 

جس پہ نامِ شہِ کونین ہو ارقام وہی

میری نظروں میں ہےوہ بہتر و برتر کاغذ

 

جس پہ ہو عارضِ تاباں کی صفت کا احوال

کردے نامہ کی سیاہی کو منوّر کاغذ

 

ہے مُشاہدؔ کی دعا از پَے حسنین ، خدا!

’’حشر میں ہو مرے نامہ کا معطّر کاغذ‘​‘​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ