اردوئے معلیٰ

Search

نا رسائی کی تکالیف اُٹھاؤ کب تک

تم جو بالفرض نبھاؤ تو نبھاؤ کب تک

 

خشک ہوتی ہوئی جھیلوں پہ کہاں تک تکیہ

سوکھتے نخل کے دامن میں پڑاؤ کب تک

 

رجز پڑھنے ہیں ابھی اور ، مسیحا ، میں نے

کچھ بتاؤ کہ بھرے گا مرا گھاؤ کب تک

 

ہار جاتا ہوں چلو پھر سے مگر تم ہی کہو

آزماؤ گے بھلا ایک ہی داؤ کب تک

 

اشک فی الحال تو موتی سے کہیں مہنگے ہیں

دیکھئے غم کا ٹھہرتا ہے یہ بھاؤ کب تک

 

دل کو بونا ہو اگر تو یہ زمیں کیسی ہے

گر مناسب ہے تو ممکن ہے اگاؤ کب تک

 

رات لمبی ہے، کوئی چھت، کوئی خیمہ ڈھونڈو

جل سکے گا میرے سینے کا الاؤ کب تک

 

لوٹنا ہے تو پلٹ ، اور بچھڑنا ہے تو جا

سہہ سکیں گے میرے اعصاب تناؤ کب تک

 

زور سے زخم دبایا تو ہوا ہے ناصر

ہاتھ روکیں گے مگر خوں کا بہاؤ کب تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ