نا قابلِ شکست بھلا کون رہ سکا

نا قابلِ شکست بھلا کون رہ سکا

ہم تھے ، ہمارے خواب تھے، پیمان تھے ترے

 

ابھرا ہے نقشِ مرگ سرِ پردہِ شہود

اب کون مانتا ہے کہ امکان تھے ترے

 

ہے اک دفعہ کا ذکر کہ ہوتا تھا ایک دل

اور اس کے اختیار میں ارمان تھے ترے

 

ہارے رفو گران بصد عجز آخرش

اتنے قبائےعشق پہ احسان تھے ترے

 

تو نے ہوس کے شہر میں آقا تو پا لیے

لیکن گنوا دیے جو غلامان تھے ترے

 

دل دیکھتا ہے چشمِ تصور سے ، کیا کریں

ورنہ تمام شہر بیابان تھے ترے

 

نیچے گلی میں ہیں تو وہی ناشناس ہم

وہ لوگ کیا ہوئے جو قدردان تھے ترے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ