اردوئے معلیٰ

نبیِ رحمت کےساتھ ابوذرغفاری کا منظوم مکالمہ

مرحبا ،محبوبِ رب العالمیں مسجد میں ہیں

جلوہ فرما رحمۃ للعالمیں مسجد میں ہیں

 

ہیں تنِ تنہا، نہیں ہے کوئی بھی تو اِن کے پاس

روشنی میں اِن سے پا لوں ، دل میں یہ جاگی ہے آس

 

حاضرِ خدمت ہوئے بوذر بہت کچھ سوچ کر

چاہتے تھے وہ سمیٹیں ، اپنے دامن میں گُہر

 

اس لئے پوچھے بہت سے شہرِ حکمت سے سوال

کر دیا سرکارِ دو عالم نے اِن کو مالا مال

 

وہ بہت کچھ چاہتے تھے پوچھنا سرکار سے

دفعتاً جی اُٹھے گل افشانیٔ گفتار سے

 

مسجدوں میں حاضری کے بھی ہیں آداب و ادب

بولے بوذر سے مخاطب ہو کے سلطانِ عرب

 

پوچھا کیا آداب ہیں مولا ہمیں بتلائیے

آ کے کیا کرنا ہے مسجد میں ، یہ اب فرمائیے

 

جب کسی مسجد میں جاؤ ،دو رکعت پڑھ لو نماز

حکم لے آئے بجا بوذر بصد عجز و نیاز

 

جب یہ دیکھا ،ہیں تن تنہا رسولِ بحر و بر

پوچھیں باتیں اور سمیٹے اپنے دامن میں ثمر

 

کس کا ہے ایمان کامل، یہ بھی اب فرمائیے

کس کا ہے ایمان کامل ، یہ ہمیں سمجھائیے

 

جو مزّّین خُلق سے ہے، ہے وہی کامل ضرور

سُن کے استفسار بوذر کا، یہی بولے حضور

 

ہے مسلمانوں میں افضل کون ؟ جب پوچھا سوال

سُن کے فرمانے لگے محبوبِ ربِ ذوالجلال

 

مسلمیں محفوظ ہیں ،جس کی زباں اور ہاتھ سے

ہے وہی افضل یہ جانا ،ہم نے اُن کی بات سے

 

پوچھا بوذر نے ،ہے افضل کون سی ہجرت حضور

سُن کے فرمایا کہ جو کر دے بدی کو خود سے دور

 

پوچھا افضل کون سی ہے آیتِ اُم الکتاب

ہے ابوذر آیت الکرسی، تھا مولا کا جواب

 

کتنے آئے انبیاء دُنیا میں یہ فرمائیے

کتنی تھی تعداد ان کی، ہم کو یہ بتلائیے

 

پا کے موقع پوچھے بوذر نے سوالوں پر سوال

سرورِ کونین بھی کرتے رہے ہیں مالا مال

 

کتنے نبیوں کو بنا کر بھیجا تھا رب نے رسول

تین سو تیرہ تھے یہ ، بس اتنا ہی بولے رسول

 

حضرتِ بوذر نے کی پھر التجا سرکار سے

میں وصیت چاہتا ہوں ، آپ کے دربار سے

 

اے مِرے مولا ، مجھے بھی کچھ وصیت کیجئے

کیا کروں میں جیتے جی ، مجھ کو ہدایت کیجئے

 

بولے مولا ،تُم ڈرو رب سے وصیت ہے مِری

تقویٰ ہی تم کو سنوارے گا ،نصیحت ہے مِری

 

اور کچھ مولا مِرے، مجھ کو وصیت کیجئے

میں ہمہ تن گوش ہوں ، مجھ کو ہدایت کیجئے

 

سُن کے فرمایا ، کرو تُم خامشی کو اختیار

اور زیادہ ہنسنا مت، اس کو بنا لو تُم شعار

 

دل کو کر دیتی ہے مُردہ، ہو زیادہ جب ہنسی

سلب کر لیتی ہے یہ چہرے کی بے شک روشنی

 

اور بھی کوئی وصیت میرے مولا کیجئے

چاہتا ہوں میں ہدایت، میرے مولا کیجئے

 

سُن کے فرمایا کرو تُم خوب مسکینوں سے پیار

ان کی قربت اور صُحبت کو کرو تُم اختیار

 

اورکچھ فرمائیے ! بولا ، کہ سچ بولا کرو

سچ اگر کڑوا بھی ہو تو اپنے لب کھولا کرو

 

سُن کے بوذر نے کہا ، کچھ اور بھی فرمائیے

سُن رہا ہوں آپ کو میں ، اور کچھ بتلائیے

 

رہنمائی کی خدا کے بھی معاملات میں

اِک جہانِ معنی ہے مولا کی اِک اِک بات میں

 

ہے یہ بے شک گفتگو سیرت کا اِک رخشندہ باب

گفتگو ہی کب ہے ؟ سچ پوچھو تو ہے جامع کتاب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ