نبی سے عشق میں روشن کیے اللہ نے میرے

نبی سے عشق میں روشن کیے اللہ نے میرے

دئیے دو چار دن جو بھی دئیے اللہ نے میرے

 

ملا ہے جو ملے گا جو، انہی سجدوں کے صدقے گل

جبینوں میں ہیں جو سجدے لکھے، اللہ نے میرے

 

میں دیکھوں زندگی میں بندگی سے حسن فطرت کو

بدن کی خاک میں رکھے دئیے اللہ نے میرے

 

مرے سپنے تمنائیں، مرے محبوب کے صدقے

مرے اشکوں میں سب دیکھے سنے اللہ نے میرے

 

کہا فردوس سے جاؤ مرے محبوب بندوں میں

کلام اپنا پڑھانے کے لیے اللہ نے میرے

 

یہ دنیا اور وہ دنیا، بنائے جنت و عالم

محمد مصطفیٰؐ کے واسطے اللہ نے میرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

لکھوں پہلے حمدِ علیِ عظیم
آئی صبا ہے کاکلِ گل کو سنوار کے
ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​
خُدا کا خانہ کعبہ دِل کُشا ہے
خُدا کی عظمتوں کا ذکر کرنا
خدائے مہرباں کی ذاتِ باری
خدا کی حمد لکھنا، نعت کہنا
خدا سے دِل لگی جب تک نہ ہو گی
نہیں ہے دل رُبا کوئی خدا سا
خدا کا ذکر جس دل میں سمائے