نبی ملے تو خدا سے ملا درود شریف

نبی ملے تو خدا سے ملا درود شریف

مری حیات کا جز بن گیا درود شریف

 

سماعتوں میں جہاں نام مصطفیٰ آیا

ادب سے جھک کے پڑھا بارہا درود شریف

 

چلی جو شہر مدینہ کی نرم نرم ہوا

گلوں کی طرح مہکنے لگا درود شریف

 

خیال گنبد خضریٰ کا آ گیا جس دم

لبوں پہ آگیا بے ساختہ درود شریف

 

پڑھا درود، نظر آیا گنبد خضریٰ

بنا ہوا ہے مدینہ نما درود شریف

 

بوقت نزع پڑھوں لا الٰہ الا اللہ

زبان پر رہے صبح و مسا درود شریف

 

میں پل صراط سے گزروں گا جس گھڑی انجمؔ

گزرتا جاؤں گا پڑھتا ہوا درود شریف

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ
مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا
سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

اشتہارات