نبی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے

نبی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے

گلوں میں کلیوں میں رنگ و نگہت ہے چاند تاروں میں روشنی ہے

 

جو آپ آتے نہ اس جہاں میں وجودِ کونین بھی نہ ہوتا

بس آپ کے دم قدم سے آقا جہاں کی محفل سجی ہوئی ہے

 

ہوا ہے ظلمت کا چاک سینہ گرے ہیں جھوٹے خدا زمیں پر

کرن نبوت کی پھوٹتے ہی جہاں کی قسمت بدل گئی ہے

 

کمالِ اہلِ ہنر سے اعلیٰ خیال اہلِ نظر سے بالا

مثال جس کی کہیں نہیں وہ جمال حسنِ محمدی ہے

 

بشیر بھی ہیں نذیر بھی ہیں سراج بھی ہیں منیر بھی ہیں

رؤف بھی ہیں رحیم بھی ہیں انہی کی دو جگ میں سروری ہے

 

کہیں پہ یٰسین کہیں پہ طہٰ کلام حق ہے ترا قصیدہ

تری ہر اک بات حکم ربی خدا کا تو لاڈلا نبی ہے

 

خدا سے جو مانگنا ہے مانگو ہے آسؔ ہر سو عطا کی بارش

خدا نہ ٹالے گا بات کوئی کہ آج میلاد کی گھڑی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ