اردوئے معلیٰ

Search

نبی کے عشق کا دل میں چراغ لے کے چلے

رہِ بہشت کا مثبت سراغ لے کے چلے

 

در اُن کا منبعِ بارانِ لطف و رحمت ہے

کرم کی آس پہ ہم بھی ایاغ لے کے چلے

 

حضور چاہیں تو ہر داغ صاف ہو جائے

ہم اپنا دامنِ دل داغ داغ لے کے چلے

 

طلسمِ گنبدِ خضریٰ کا کیا اثر کہئے

درونِ روح بھی اک سبز باغ لے کے چلے

 

سرور و کیف ہے اب لفظ لفظ میں شامل

درِ حضور سے ایسا بلاغ لے کے چلے

 

بسر ہو مدحتِ خیر البشر میں عمر تمام

ہے فخر ہم کو یہ حسنِ فراغ لے کے چلے

 

ہر ایک فکر سے آزاد ہو گئے ہیں یہاں

غلام آقا سے وہ انفراغ لے کے چلے

 

پلٹنا طیبہ سے با چشمِ نم بسوزِ جگر

غمِ فراق کا ساتھ اپنے داغ لے کے چلے

 

یہ فیضِ نورِ درِ مصطفیٰ ہے ہم عارف

دلِ منوّر و روشن دماغ لے کے چلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ