نبی ﷺ کا نام دل میں ضو فشاں ہے اب جہاں میں ہوں

نبی ﷺ کا نام دل میں ضو فشاں ہے اب جہاں میں ہوں

لہو کا قطرہ قطرہ مدح خواں ہے اب جہاں میں ہوں

 

مری آنکھوں کے روزن بند ہیں، دل جاگ اُٹھَّا ہے

تصور کامیاب و کامراں ہے اب جہاں میں ہوں

 

تخیل روضۂ اطہر پہ لے آیا تو یوں جانا

مرے قدموں کے نیچے آسماں ہے اب جہاں میں ہوں

 

انہیں ﷺ کے عشق کی تنویر سے روشن ہے کل عالم

فضا بھی میرے دل کی ترجماں ہے اب جہاں میں ہوں

 

مدینے میں جسارت لب کشائی کی! یہ ناممکن

میسر صرف اَشکوں کی زباں ہے اب جہاں میں ہوں

 

کسی کے دستِ شفقت کا تصور میرا ساتھی ہے

مرے قدموں کے نیچے کہکشاں ہے اب جہاں میں ہوں

 

اُنہی ﷺ کے عشق کا فیضان ہے یہ بھی عزیزؔ احسن

کہ صحرا میں بھی سر پر سائباں ہے اب جہاں میں ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت سے عشقِ پیہم کی خوشبو آئے
نسیمِ ذِکرِ نبی جب لبوں کو چھو کے گئی
اسے زما نہ بڑے ہی ادب سے ملتا ہے
کبھی کوہِ صفا پر مسکرایا
من موہن کی یاد میں ہر پل ساون بن کر برسے نیناں
خلقِ خدا میں فائق، صلِ علیٰ محمد ﷺ
قلب کو بارگہِ شاہ سے لف رکھتا ہوں
جس شخص نے کی آپؐ سے وابستگی قبول
ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
اے راحتِ جاں باعثِ تسکین محمدؐ