نثار تجھ پہ کہ رخسار کا لیا بوسہ

نثار تجھ پہ کہ رخسار کا لیا بوسہ

حلیمہ تونے تو سرکار کا لیا بوسہ

 

مدینہ پاک کے آثار جب نظر آئے

زمین چوم کے اشجار کا لیا بوسہ

 

سجائی محفل میلاد جس گھڑی گھر میں

مہک نے جھوم کے گھر بار کا لیا بوسہ

 

عکاشہ آپ کی حکمت پہ میں ہوا قربان

جو مُہر پاک پہ یوں پیار کا لیا بوسہ

 

جو نعتِ پاک لکھی میں نے ، ماں کو دکھلائی

مجھے بھی چوما تو اشعار کا لیا بوسہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

غمِ حیات سے گرچہ بہت فگار ہوں میں
محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو
یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے
سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں
دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض
کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ
حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد
اب پردہ پردہ پردہِ سازِ جمال ہے
اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات
آمدِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا