نثار کرنے کو ہوش و قرار آیا ہوں

 

نثار کرنے کو ہوش و قرار آیا ہوں

درِ نبی در پہ بہت دل فگار آیا ہوں

 

حروفِ عرض لبِ شوق پر سجائے ہوئے

ترے دیار میں زار و قطار آیا ہوں

 

بوجہِ عصیاں ہوں آشفتہ ، نادم و نالاں

میں لے کے دامنِ دل تار تار آیا ہوں

 

متاعِ حرف و سخن نعت سے نہ ہو قاصر

دیارِ پاک میں اب اشک بار آیا ہوں

 

حدودِ شرع میں سر کو جھکائے رکھا ہے

اگرچہ آنے کو دیوانہ وار آیا ہوں

 

بقیعِ پاک میں دوگز زمین لینے کو

کرم کے شہر میں عرضی گزار آیا ہوں

 

وہ نور نور سا منظرؔ حسین گنبد کا

میں جلوے دیکھ کر اس کے ہزار آیا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے​
میرا خامہ جو یا نبی لکھے
ہوں میں جب مستغرقِ کارِ ثنائے آنحضورؐ
جذبۂ الفت شہہِ خیراُلامم کی نذر ہے
نغماتِ ازل بیدار ہوئے پھر بربطِ دل کے تاروں میں
جو دل میں نعت مرے اعتکاف کرتی ہے
حسیں رنگ بھاروں کا مسکن مدینہ
عرض کی رب سے سکوں کا ہو کوئی نسخہ عطا
دہر پر نور ہے ، ظلمات نے منہ موڑ لیا
مقدَّر ہے مدینے میں

اشتہارات