نثار کرنے کو ہوش و قرار آیا ہوں

 

نثار کرنے کو ہوش و قرار آیا ہوں

درِ نبی در پہ بہت دل فگار آیا ہوں

 

حروفِ عرض لبِ شوق پر سجائے ہوئے

ترے دیار میں زار و قطار آیا ہوں

 

بوجہِ عصیاں ہوں آشفتہ ، نادم و نالاں

میں لے کے دامنِ دل تار تار آیا ہوں

 

متاعِ حرف و سخن نعت سے نہ ہو قاصر

دیارِ پاک میں اب اشک بار آیا ہوں

 

حدودِ شرع میں سر کو جھکائے رکھا ہے

اگرچہ آنے کو دیوانہ وار آیا ہوں

 

بقیعِ پاک میں دوگز زمین لینے کو

کرم کے شہر میں عرضی گزار آیا ہوں

 

وہ نور نور سا منظرؔ حسین گنبد کا

میں جلوے دیکھ کر اس کے ہزار آیا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ