نری بدن کی ضرورت، سخن وری ہی نہیں

نری بدن کی ضرورت، سخن وری ہی نہیں

ہے سعیٔ حرف مگر اس میں روشنی ہی نہیں

 

وہ جس نے شعر و سخن کو بدن پہ اوڑھ لیا

اسے حروف کی عظمت کی آگہی ہی نہیں

 

نِہالِ فکر کو آب و ہوائے طیبہ میں

وہ تازگی ہے مُیسر جو پہلے تھی ہی نہیں

 

حروف مدح کے لکھ کر ہوا ہے یہ معلوم

سخن میں ایسی کبھی روشنی ہوئی ہی نہیں

 

میں نعت لکھ کے نئی کائنات دیکھتا ہوں

وہ جس میں جلوۂ تاباں کی کچھ کمی ہی نہیں

 

ہر ایک شے میں حقیقت کا رنگ پاتی ہے

نظر نے خاک کی جانب نگاہ کی ہی نہیں

 

حقیقتِ نبوی کون جان سکتا ہے

کسی کو قوتِ ادراک وہ ملی ہی نہیں

 

ہزار بار کی کوشش کے بعد یہ جانا

نبی کی، لفظوں میں عظمت سما سکی ہی نہیں

 

میں حرف لکھنے کا لاکھ اہتمام کر ڈالوں

ملال رہتا ہے مدحِ نبی ہوئی ہی نہیں

 

کبھی تو لفظ کی نیرنگیاں نہیں رہتیں

کبھی شعوریہ کہتا ہے روشنی ہی نہیں

 

مجھے بھی قربتِ رُوحُ الْقُدُس میسر ہو!

بغیر جس کے کوئی بات بن سکی ہی نہیں

 

عزیزؔ نعت رہے تازہ آگہی کی امیں

جو یہ نہیں تو سمجھ، مدح ہو سکی ہی نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میں کھلا رہے
شمیم نعت سے جو حالِ دل وجدان جیسا تھا
عرشِ علیٰ پہ جانے والے میرے آقا میرے حضور
بارہا منزلِ طیبہ کا مسافر ہونا
بہجت افزائی کرے اسمِ معطر تیرا
عشقِ نبی میں یہ جو "تڑپ "ہے مکینِِ شوق
درِ غلامِ محمد پہ جب جل رہا ہے چراغ
اللہ اللہ کس قدر ہے رفعت شان رسول
سب حقیقت کھل گئی کونین کی تحقیق سے
شہِ امم کے عشق کا حسین داغ چاہئے

اشتہارات