اردوئے معلیٰ

Search

نسیمِ ذِکرِ نبی جب لبوں کو چھو کے گئی

لگا کہ خلد کی جانب ہے کوئی کھڑکی کھلی

 

خدایا کرنا محبت بھی لازوال ان کی

وہ جن کا پہلا تعارف بنی ہو نعتِ نبی

 

جو نقشِ پائے نبی نے اگائے چاند ان کی

پڑی جو لَو تو نصیبے اجالتی ہی گئی

 

میں نیند آنے سے پہلے ذرا وضو کر لوں

کہ میرے خواب میں آ سکتی ہے وہ پاک گلی

 

سیہ جبینیں تھیں اپنی سو اُن کے آنے سے

ہمارے حصے میں دو جگ کی روشنی آئی

 

وظیفہ اسمِ شہِ مرسلیں کا کرتے رہو

نہ التجا میں خلا ہو نہ ربط میں دُوری

 

نظارے ہوتے ہیں کاغذ پہ آکے سجدہ ریز

خیالِ نعت کا مضموں اگر ہو جلوہ گری

 

سرُورِ جلوہ نمائی عروج پر تھا مگر

بوقتِ دید بھی تھی فکر ان کو اُمت کی

 

جہانِ عشق میں ناموسِ مصطفےٰ کے لئے

جو زندگی سے گئے زندگی ہوئی انکی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ