نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو

نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو

مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ ہمسفر ہے تو

 

سفالِ کوزۂ جاں! دستِ مہر و الفت پر

تجھے گدائی میں رکھوں تو معتبر ہے تو

 

علاجِ زخمِ تمنا نے مجھ کو مار دیا

کسی کو کیسے بتاؤں کہ چارہ گر ہے تو

 

چراغِ بامِ تماشہ کو بس بجھا دے اب

میں جس مقام پہ بیٹھا ہوں باخبر ہے تو

 

یہ کس گمان میں لڑتا ہے تو حقیقت سے

یہ کس خیال کے عالم میں گم نظر ہے تو

 

ترے قدم سے بندھے ہیں ترے زمان و مکاں

تجھے مقیم سمجھتا تھا در بدر ہے تو

 

ابھی تو قضیۂ نان و نمک نہیں نبٹا

ابھی سے پائے تمنا کدھر کدھر ہے تو

 

تری جڑیں کسی مٹی کو ڈھونڈتی ہیں ظہیرؔ

زمینِ زر میں ابھی تک جو بے ثمر ہے تو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

اشتہارات