نشانِ پائے مصطفےٰ کا گھر یہ دل

نشانِ پائے مصطفےٰ کا گھر یہ دل

میرے حضور کی ہے رہگزر یہ دل

 

ہواؤں کی طرح تلاش میں رہے

جدھر ہے خوشبوئے رسول، اُدھر یہ دل

 

میں اِس کو نفرتوں میں ضائع کیوں کروں

ملا محبتوں کے نام پر یہ دل

 

حصارِ کائنات میں نہ آ سکے

نبی کو چاہتا ہے کس قدر یہ دل

 

گمان بھی یقین و اعتبار بھی

مرض یہ دل مرض کا چارہ گر یہ دل

 

رموز عشق کے تمام آ گئے

بڑے ہی کام کا ہے ٹوٹ کر یہ دل

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ