نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے

نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے

چراغ اور اندھیرے کے درمیاں وہ ہے

 

نمود لالہ و گل میں وہی ہے چہرہ نما

شجر شجر پہ لکھا حرفِ داستاں وہ ہے

 

جبین شمس و قمر اس کے نور سے تاباں

سنہری دھوپ ہے وہ حسن کہکشاں وہ ہے

 

اسی کی ذات کے ممنون خدوخال حیات

کہ اور کون ہے صورت گر جہاں وہ ہے

 

ہر اک اُفق پہ اسی کا دوام روشن ہے

جو شے فانی ہے بس ایک جاوداں وہ ہے

 

کیا ہے جرم سے پہلے ہی اہتمام کرم

چراغ رحمت آقا میں ضو فشاں وہ ہے

 

اسی کی یاد لہو سے کلام کرتی ہے

ہے جس کے ذکر سے آباد شہر جاں وہ ہے

 

سکوت نیم شبی میں پکارتا ہوں اسے

کہ میں ہوں درد کی دستک در اماں وہ ہے

 

زبان اشک سے مانگو دعائیں بخشش کی

بڑا رحیم ، نہایت ہی مہرباں وہ ہے

 

اسی کی مدح میں لو دے رہے ہیں لفظ صبیحؔ

سخن کا نور ہے وہ لذّت بیاں وہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی
فلک میں حدّ ِ نظر لا اِلہ الہ اللہ
تو رازق ہے میں اس سے باخبر ہوں
خدائے پاک ربُّ العالمیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے
خطا کاروں کا تُو ستار بھی ہے
مجھے بحرِ غم سے اُچھال دے
صدائے کن فکاں پرتو خدا کا
خدا توفیق دے حمد و ثناء کی
تو خبیر ہے تو علیم ہے
خدا سُنتا ہماری التجا ہے