اردوئے معلیٰ

نظام رامپوری کا یوم وفات

آج نامور شاعر نظام رامپوری کا یوم وفات ہے

نظام رامپورینام زکریا شاہ اور نظام شاہ ، تخلص نظام۔ ۱۸۱۹ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ نظام حافظ احمد شاہ سے رام پور میں بیعت تھے۔ ابتدا میں شعر و شاعری میں انھی کے شاگرد ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے سجادہ نشین بھی ہوئے۔ بعد میں نظام نے علی بخش بیمار جو مصحفی کے شاگرد تھے، ان سے اصلاح سخن لینا شروع کی۔ نظام ریاست رام پور کے سواروں میں ملازم تھے ۔ تنخواہ بہت قلیل تھی جس کی وجہ سے مالی پریشانی میں مبتلا رہتے تھے۔ ’’کلیات نظام‘‘، مجلس ترقی ادب لاہور کے تعاون سے چھپ گئی ہے۔ بقول غالب:’نظام رام پور کا میر تھا‘۔ ۲۹؍اکتوبر ۱۸۷۲ء کو نظام کا رام پور میں انتقال ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ایم پی خان
۔۔۔۔۔۔۔
اردوادب کی تاریخ میں دہلی ، لکھنو اوررام پور کو بہت بڑا مقام حاصل ہے۔ دبستان دہلی اور دبستان لکھنو کے بعد جس علاقے میں شعروشاعری کو عروج حاصل ہوا اور جس نے شعروسخن کو نئی تہذیبی دولت سے مالامال کیا، وہ رام پور ہے۔ جب یہ دونوں دبستان یعنی دہلی اور لکھنو اجڑے تو شعراء اور اہل علم کو رام پور میں جگہ ملی ۔ جن میں مولانا فضل حق خیرآبادی، مرزاغالب ، میرحسن تسکین، میر مظفر علی اور بہت دوسرے شعراء و علماء شامل تھے، نواب یوسف علی خان رامپوری کے دربار میں جمع ہوئے۔ نواب صاحب چونکہ خود بھی شعروشاعری کے دلدادہ تھے ، اس لئے اس نے اپنے دربار میں گنگا جمنی کر دیا، یعنی دہلی اورلکھنو کے رنگ باہم ملا کر ایک نئے طرزکی بنیاد ڈالی۔ چونکہ رامپور پٹھانوں کا علاقہ تھا ، اس لئے یہاں تمام تر محرکات پٹھانوں کی جبلت کے زیراثر ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا
——
سادگی، خلوص ، انسان دوستی ، مہمان نوازی، قوت و طاقت، خودداری اورخود اعتمادی ان کی بنیادی خوبیاں ہیں۔ اس پرمستزاد اہل رامپورکا غصہ اور انتقامی جذبہ بھی قابل ذکر ہے۔ دبستان رامپور کی شاعری میں پٹھانوں کی اس تہذیب کے بڑے اثرات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دبستان کی شاعری میں خوشی اورمسرت کی لہر، اس کانشہ اورغرور، مردانہ پن، بے ساختگی ،بے باکی اوربے نیازی ہے۔ اسکی شاعری میں صاف ستھری زبان استعمال ہوئی ہے ۔اپنی اس انفرادی رنگ کی بدولت بعض محققین اورناقدین رام پور کو علیحدہ دبستان تسلیم کرتے ہیں۔ شاہی سرپرستی ، اہل رامپور کا مزاج شاعرانہ اور خوشی اور مسرت کی فراوانی نے رام پور کی فضا شعروسخن کے لئے نہایت سازگار بنا دی تھی۔ شعروسخن کے اس دور عروج میں 1823 میں رام پور کے محلہ گھیر سخی میں حافظ سید احمد شاہ کے ہاں ایک لڑکا نظام شاہ کی ولادت ہوئی۔ نظام نے عربی اور فارسی کی تعلیم محلے کے ایک مدرسے میں حاصل کی۔ انکے ابتدائی استاد انکے پیرومرشد میاں احمد علی شاہ تھے لیکن صحیح معنوں میں ان کے استاد علی بخش بیمار تھے جو مصحفی کے شاگرد تھے۔ رامپور میں شعروسخن کی اس فضا میں نظام نے بھی شاعری شروع کی۔ نظام کے اساتذہ میں والئی رام پور نواب یوسف علی خان ناظم کانام بھی لیا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ نظام نے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کیا اور انکی شاعری میں خوب نکھار آئی۔ انکی شاعری کا اپنا ایک انفرادی رنگ ہے، جس میں بانکپن، شوخی، معاملہ گوئی ، ادابندی، اورسب سے بڑھ کر انکے کلام میں سلاست، سادگی اور ایسی مٹھاس موجود ہے کہ یہ گماں نہیں ہوتا کہ یہ اُس دورکی شاعری ہے۔ انکا مشہور زمانہ شہر آج بھی ہر زبان پر ہے اور ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئے مسکرا کے ہاتھ
۔۔۔۔۔۔۔
نظام کی زبان میں جو سادگی ہے ، وہ انکی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت ہے ۔ جس دور میں زبان میں مشکل پسندی کا رجحان عام تھا، ایسے میں نظام نے نہایت صاف ، شائستہ اورسلیس زبان استعمال کر کے ، اپنی انفرادیت قائم رکھی۔ ایسی زبان کا استعمال ، جسے دیکھ کر آج بھی میر تقی میر، احمد فراز اور ناصر کاظمی کی شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مرز اغالب رامپور گئے اور وہاں نظام کا کلام پڑھا تو بے ساختہ منہ سے یہ الفاظ نکلے۔’’ یہ تو رام پورکے میر ہیں‘‘۔ نظام کے کلام میں دور قدیم اوردور جدید کا حسین امتزاج موجود ہے۔ وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں ، جہاں قدیم رنگ کے نقوش کے ساتھ ساتھ جدید رنگ کے چھاپے ابھرنا شروع ہو گئے تھے۔ ان کی شاعری میں آنے والے دور کی شاعری کا رنگ نظر آتا ہے۔ انکی شاعری مکالمہ نگاری، ہجرووصال، معاملہ بندی، ادابندی، جدت پسندی اور لطف زبان کی مکمل کائنات ہے۔ انکے اشعار نظر سے گزرتے ہیں تو خوشگوار سا احساس ہوتا ہے ، دل امنگوں سے بھر جاتا ہے اور ترنگوں کے بحر بیکراں میں موجیں مارنے لگتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : اُردو کے نامور شاعر رام ریاض کا یومِ وفات
——
ہر وہ فرد، جس نے عشق کیا ہے یا اسے رومانوی زندگی کی ہلکی سے ہوا لگی ہے، وہ نظام کا شیدائی ہو جاتا ہے۔ اس میں کہیں شوخی نمایاں ہے ، کہیں حیا دامن گیر ہے ، کہیں مجبوری اور خوشی کی البیلی سی رومانیت ہے۔ کہیں سادگی ہے اور کہیں پرکاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
غیر کے دھوکے میں قاصد سے میرا خط لے کر
پـڑھنے کو پڑھ تو لیا، نام مگر چھوڑ دیا
غیر سے وعدہ و اقرار ہوئے کیا کیا کچھ
میرے خوش کرنے کو ایک فقرہ ادھر چھوڑ دیا
۔۔۔۔۔۔۔
نظام سے ادب میں جدیدیت کی ابتدائی ہوئی ہے، کیونکہ ان سے پہلے کثرت سے جدت پسندی نہیں ملتی ، یا اگر کہیں ملتی ہے تو برائے نام ہے۔ کسی تصور کے اظہار کے لئے نئے الفاظ برتنا بھی جدیدیت کے زمرے میں آتا ہے۔ نظام وقتی طور پر کلاسیکی شاعری کے کوچے میں بھی گئے ہیں اور انہوں نے وہ حقائق ورایات اور درد و غم اسی طرح تغزل میں پیش کئے ہیں ، جو ہماری کلاسیکی شاعروں کے مزاج میں پائے جاتے ہیں ۔ انکے کلام میں جو سوزوگداز ہے ، وہ میر سے مشابہت رکھتا ہے، چونکہ انکی اولادیں کبرسنی میں فوت ہوتی تھیں ۔ انکے آٹھ اولادیں ہوئی لیکن فوت ہوئیں، جس وجہ سے انکے کلام میں دردوغم کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں جبکہ رنگ تغزل مومن کی طرح ہے۔ مثلاً
۔۔۔۔۔۔۔
تم سے کچھ کہنے کو تھا، بھول گیا
ہائے کیا بات تھی کیا بھول گیا
۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں یہ بھی کبھی خیال آیا
کہ کوئی راہ دیکھتا ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔
ساقی کیا خطا ہے ، قسمت ہے اپنی اپنی
جب اپنا دور آیا خالی ہی جام نکلا
۔۔۔۔۔۔۔
کس کس کی روز روز خوشامد کیا کرے
ہوتے ہیں ان کے در پہ تودربان نئے نئے
۔۔۔۔۔۔۔
کس کس طرح ستاتے ہیں ، یہ بت ہمیں نظام
ہم ایسے ہیں کہ جیسے کسی کا خدا نہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔
نظام رامپوری کے کلام کی خوبیاں دیکھ کر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے دور اور اس سے پہلے دور کے شعراء سے کسی طور کم نہ تھا۔ ان کے کلام میں دبستان دہلی اور دبستان لکھنو کی جملہ خوبیاں موجود تھیں۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ نظام رامپوری کے رنگ میں رنگ کر نواب مرزاخان ، داغ بن گئے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
——
داغ کا جملہ کلام نظام رامپوری کے کلام کے زیراثرپروان چڑھا ہے بلکہ بعض مقامات میں داغ نے نظام کے کئی اشعار میں معمولی تصرف کر کے اپنے نام کر دئے ہیں۔ لیکن داغ کو اردو شعروسخن میں وہ مقام ملا جو کسی اور کے حصے میں نہ آیا جبکہ نظام رامپوری گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔ اردواد ب کے اس عظیم شاعر نے 1872 میں رامپور میں وفات پائی، جس وقت انکی عمر پچاس برس تھی۔ یہ زمانے کے بے اعتنائی تھی یا محققین اورناقدین کا تعصب ، کہ نظام رامپوری کو وہ شہرت اور مقبولیت نہ ملی ، جس کے وہ حقدار تھے۔ کلب علی خان فائق نے نظام رامپوری کا پورا کلیات مجلس ترقی اردو کے تحت شائع کیا ہے۔ دور جدید میں
اردو ادب کے طلبہ ، اساتذہ، محققین اورناقدین اردو ادب کے پرانے کھنڈرات کی کھدائی کر رہے ہیں اور ایسے ایسے نوادرات انکے ہاتھ آ رہے ہیں ، جو اردو ادب میں نئے نئے رجحانات کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ نظام رامپوری پر تحقیق ہو رہی ہے اور بہت جلد اردو ادب کے آسمان پر نظام رامپوری کا ستارہ پوری آب و تاب کے ساتھ چمکے گا۔
——
منتخب کلام
——
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ
بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ
یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ
بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ
گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں
اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ
وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے
اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ
قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ
اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ
وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ
دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ
پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں
باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ
کوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ
پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ
دینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ
منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ
——
وہ بگڑے ہیں رکے بیٹھے ہیں جھنجلاتے ہیں لڑتے ہیں
کبھی ہم جوڑتے ہیں ہاتھ گاہے پاؤں پڑتے ہیں
گئے ہیں ہوش ایسے گر کہیں جانے کو اٹھتا ہوں
تو جاتا ہوں ادھر کو اور ادھر کو پاؤں پڑتے ہیں
ہمارا لے کے دل کیا ایک بوسہ بھی نہیں دیں گے
وہ یوں دل میں تو راضی ہیں مگر ظاہر جھگڑتے ہیں
جو تم کو اک شکایت ہے تو مجھ کو لاکھ شکوے ہیں
لو آؤ مل بھی جاؤ یہ کہیں قصے نبڑتے ہیں
ادھر وہ اور آئینہ ہے اور کاکل بنانا ہے
ادھر وہم اور خاموشی ہے اور دل میں بگڑتے ہیں
یہاں تو سب ہماری جاں کو ناصح بن کے آتے ہیں
وہاں جاتے ہوئے دل چھٹتے ہیں دم اکھڑتے ہیں
نہ دل میں گھر نہ جا محفل میں یاں بھی بیٹھنا مشکل
ترے کوچے میں اب ظالم کب اپنے پاؤں گڑتے ہیں
سحر کو روؤں یا ان کو مناؤں دل کو یا روکوں
یہ قسمت وعدے کی شب جھگڑے سو سو آن پڑتے ہیں
کبھی جھڑکی کبھی گالی کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے
بنے کیوں کر کہ سو سو بار اک دم میں بگڑتے ہیں
نظامؔ ان کی خموشی میں بھی صد ہا لطف ہیں لیکن
جو باتیں کرتے ہیں تو منہ سے گویا پھول جھڑتے ہیں
——
کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے
بدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہے
وہ باتیں بھولی بھولی اور وہ شوخی ناز و غمزہ کی
وہ ہنس ہنس کر ترا مجھ کو رلانا یاد آتا ہے
گلے میں ڈال کر بانہیں وہ لب سے لب ملا دینا
پھر اپنے ہاتھ سے ساغر پلانا یاد آتا ہے
بدلنا کروٹ اور تکیہ مرے پہلو میں رکھ دینا
وہ سونا آپ اور میرا جگانا یاد آتا ہے
وہ سیدھی الٹی اک اک منہ میں سو سو مجھ کو کہہ جانا
دم بوسہ وہ تیرا روٹھ جانا یاد آتا ہے
تسلی کو دل بیتاب کی میری دم رخصت
نئی قسمیں وہ جھوٹی جھوٹی کھانا یاد آتا ہے
وہ رشک غیر پر رو رو کے ہچکی میری بندھ جانا
فریبوں سے وہ تیرا شک مٹانا یاد آتا ہے
وہ میرا چونک چونک اٹھنا سحر کے غم سے اور تیرا
لگا کر اپنے سینہ سے سلانا یاد آتا ہے
کبھی کچھ کہہ کے وہ مجھ کو رلانا اس ستم گر کا
پھر آنکھیں نیچی کر کے مسکرانا یاد آتا ہے
——
بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہے
کلیجا منہ کو آ جاتا ہے دل ایسا بگڑتا ہے
شب غم میں پڑے تنہا تسلی دل کی کرتے ہیں
یہی عالم کا نقشہ ہے سدا بنتا بگڑتا ہے
وہ یاد آتا ہے عالم وصل کی شب کا وہ آرائش
وہ کہنا چھو نہ اس دم زلف کا حلقا بگڑتا ہے
ہمارے اٹھ کے جانے میں تری کیا بات بنتی ہے
ہمارے یاں کے رہنے میں ترا کیا کیا بگڑتا ہے
وہ کچھ ہو جانا رنجش اس پری سے باتوں باتوں میں
وہ کہنا پھیر کر منہ یہ تو کچھ اچھا بگڑتا ہے
جو بعد از عمر خط لکھا تو یہ تقدیر کا لکھا
عبارت گر کہیں بنتی ہے تو معنا بگڑتا ہے
اگر خاموش رہتا ہوں تو جی پر میرے بنتی ہے
اگر کچھ منہ سے کہتا ہوں تو وہ کیسا بگڑتا ہے
سفارش پر بگڑ کر ہائے وہ اس شوخ کا کہنا
منا لیتا اسے میں پر مرا شیوہ بگڑتا ہے
نظامؔ اس کی عنایت ہے تو پھر کس بات کا غم ہے
بناتا ہے وہ جس کا کام کب اس کا بگڑتا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ