نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے

نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے

میں رات دن پڑھ رہا ہوں اس کو جو زندگی کے نصاب میں ہے

 

نفاذ حق میں یہ دیر کیسی حضور کی اتباع کر لو

نظام دیں کا تو ذکر ساری خدا کی اپنی کتاب میں ہے

 

وہ نور جس سے ہوا منور تمام عالم کا گوشہ گوشہ

اسی سے ہے آفتاب روشن وہ مصحف ماہتاب میں ہے

 

حضور کی زلف عنبریں سے مہک رہا ہے تمام عالم

نہ ہے چمبیلی میں ایسی نکہت نا ایسی خوشبو گلاب میں ہے

 

ملی جسے خاک پائے احمد چمک گئی سمجھو اس کی قسمت

بھلا ہو کیوں اس کو خوف محشر جو آپ کے انتخاب میں ہے

 

گنہ کی گٹھڑی لدی ہے سر پر لرز رہا ہے بدن بھی تھر تھر

نبی کا صدقہ، خدا کرم کر، یہ تیرا بندہ عذاب میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے
شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ
جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
سنہرے موسم
سلام اے محمد! ، اے احمد! ، اے حامد!​
مرے خدا کو جو پیارا ہے یارسولؐ اللہ
ہے حبیب رب کا مرا نبیؐ وہ جہانِ جشن میں روشنی
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے

اشتہارات