نظر میں گنبد خضرا بسا کے لے آنا

نظر میں گنبد خضرا بسا کے لے آنا

درِ رسول کی یادیں سجا کے لے آنا

 

جو مل سکے نہ تمہیں دو جہاں کی وسعت سے

وہ حاجیو! مرے آقا سے جا کے لے آنا

 

جہاں جہاں پہ تمہاری نظر کرے سجدے

وہاں وہاں کے مناظر سما کے لے آنا

 

میرا سلام بھی جا کر حضور سے کہنا

جو اب جو ملے اسکو چھپا کے لے آنا

 

تمہارے ہاتھ جو طیبہ کی خاک لگ جائے

اسے ہر ایک نظر سے بچا کے لے آنا

 

یہاں میں نعت کہوں اور وہاں سنی جائے

مرے نصیب میں ایسا لکھا کے لے آنا

 

تڑپ میں ان کی ہے مسرور زندگی کتنی

ذرا سی اور تڑپ آسؔ جا کے لے آنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ