اردوئے معلیٰ

نظر نظر میں نہ اُس کو پچھاڑ بندہ بن

نظر نظر میں نہ اُس کو پچھاڑ بندہ بن

تو بھینگی آنکھ سے کاکی نہ تاڑ بندہ بن

 

دماغ شل کرے یہ’’ میڈیائے ان سوشل‘​‘​

نہ توڑ دے کوئی تیری ’’ جباڑ‘​‘​ بندہ بن

 

کہا یہ لیلیٰ سے مجنوں نے پارلر میں چل

کہ سر ہے جھاڑ ترا منہ پہاڑ بندہ بن

 

خدا کے واسطے تخلیق کو بریک لگا

ہے پہلے ہی پڑا گھر میں کباڑ بندہ بن

 

سہارنا اسے مشکل ہے پہلوانی بوجھ

نہ بیٹھ ، ٹوٹ نہ جائے نواڑ بندہ بن

 

ستم نہ ڈھا ہو وہ اردو کہ ٹھیٹھ پنجابی

تو مونگ دَل، نہ مرا سینہ ساڑ ، بندہ بن

 

تو میری مان انگلش نہ آئے گی ایسے

خدارا منہ کو نہ اپنے بگاڑ بندہ بن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ