نظر کو نور کی اک سلسبیل ملتی ہے

نظر کو نور کی اک سلسبیل ملتی ہے

دلوں کو چین بھی ملتا ہے سبز گنبد سے

دعا کرو کہ یہی نور روح میں بس جائے

قبولیت ہو مقدم اَجل کی آمد سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میں
نعت کا فیض عام کرتے ہیں
آپؐ جیسا حسیں نہیں کوئی
آپؐ ہی خیر البشرؐ ہیں آپؐ ہی نُورمبیں
خدا کی کبریائی ہے جہاں تک
میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر
کیا مجھ سے واعظ نے ذکرِ مدینہ
’’چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدہ کریں ‘‘
’’ہے تم سے عالم پُر ضیا ماہِ عجم مہرِ عرب‘‘