نظر کو گنبدِ خضرا کی بھیک ملتی رہی

نظر کو گنبدِ خضرا کی بھیک ملتی رہی

ہوا زمانہ یہ خیرات بھی وصولے ہوئے

 

عجیب بات کہ اب ہیں عمل سے دور وہی

گزر گئیں جنہیں صدیاں یہ دیں قبولے ہوئے

 

الٰہی! اب تو یہ ملت بھی دِیں کی رہ پہ چلے

گزر گئے ہیں زمانے یہ راہ بھولے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ