نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے

نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے

میری بخشش کا سرِ حشر یہ سامان بھی ہے

 

میں نے فرقت میں حضوری کا مزا پایا ہے

میرا اظہار، مرے درد کا درمان بھی ہے

 

نعت سے مجھ کو سلیقہ ملا گویائی کا

اپنے آئینِ عقیدت کا یہ اعلان بھی ہے

 

اُن کے ناموس کی عظمت پہ تصدّق ہوں گے

اپنے آقا سے غلاموں کا یہ پیمان بھی ہے

 

نعت کو شانِ عطا وجہِ شفاعت کہیے

ہم پہ سلطانِ دو عالم کا یہ احسان بھی ہے

 

میں نے پلکوں پہ ستارے سے ابھرتے دیکھے

مدحِ سلطان جہاں رفعتِ وجدان بھی ہے

 

نعت و مدحت کی ہے حقدار فقط ذات وہی

عین قرآن ہے جو صاحب قرآن بھی ہے

 

شاعرو! مدحتِ آقا میں یہ ملحوظ رہے

جو بھی کہتے ہو، وہ سرکار کے شایان بھی ہے

 

نعت ہے حکم الہیٰ کی سراسر تعمیل

یہ ہے ایمانِ رضا، سنّتِ حسّان بھی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدینہ کا سفر جاری و ساری
درودوں کا وظیفہ لمحہ لمحہ دم بدم رکھیں
حضور آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے
جس کو آیا قرینہ مدحت کا
صبحِ بزمِ نو میں ہے یا شامِ تنہائی میں ہے
کیا عجب لطف و عنایات کا در کھُلتا ہے
طُرفہ انداز لیے اُن کے کرم کی صورت
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی
ہر جگہ اہل ایمان غالب رہے

اشتہارات