اردوئے معلیٰ

Search

نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے

میری بخشش کا سرِ حشر یہ سامان بھی ہے

 

میں نے فرقت میں حضوری کا مزا پایا ہے

میرا اظہار، مرے درد کا درمان بھی ہے

 

نعت سے مجھ کو سلیقہ ملا گویائی کا

اپنے آئینِ عقیدت کا یہ اعلان بھی ہے

 

اُن کے ناموس کی عظمت پہ تصدّق ہوں گے

اپنے آقا سے غلاموں کا یہ پیمان بھی ہے

 

نعت کو شانِ عطا وجہِ شفاعت کہیے

ہم پہ سلطانِ دو عالم کا یہ احسان بھی ہے

 

میں نے پلکوں پہ ستارے سے ابھرتے دیکھے

مدحِ سلطان جہاں رفعتِ وجدان بھی ہے

 

نعت و مدحت کی ہے حقدار فقط ذات وہی

عین قرآن ہے جو صاحب قرآن بھی ہے

 

شاعرو! مدحتِ آقا میں یہ ملحوظ رہے

جو بھی کہتے ہو، وہ سرکار کے شایان بھی ہے

 

نعت ہے حکم الہیٰ کی سراسر تعمیل

یہ ہے ایمانِ رضا، سنّتِ حسّان بھی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ