نعتِ شہہِ کونین کے یوں حرف رقم ہوں

نعتِ شہہِ کونین کے یوں حرف رقم ہوں

جس شہر میں آقا ہیں اُسی شہر میں ہم ہوں

ایمان و عمل عشق کی راہوں میں بہم ہوں

کردار سے یہ تیرگیاں راہ کی کم ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے
بسایا میں نے دل میں مصطفیٰؐ ہے
یہ لُطف و کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے
ہے مجھے عشق حضورؐ آپ سے پیار آپؐ سے ہے
فکرِ سرکارؐ وجہِ راحت ہے
مجھے سرکارؐ سے وابستگی دے
ہے مخلوقات پہ احسان اُنؐ کا
آسماں آسماں قدم اُس کے
’’عرش پر دھومیں مچیٖں وہ مومنِ صالح ملا‘‘
’’جاگ اُٹھّی سوئی قسمت اور چمک اُٹھّا نصیب‘‘