اردوئے معلیٰ

میرا یہ عقیدہ ہے بلا شائبۂ شک

محدود نہیں ذکرِ نبی اہلِ زمیں تک

ہے بزمِ ملائک میں سرِ عرش بھی چرچا

فرمودۂ ربی ہے ’’ رفعنا لک ذکرک‘​‘​

 

توصیف کریں سب اہلِ سخن اجمالی کملی والے کی

تکمیلِ ثنا ممکن ہی نہیں اس کالی کملی والے کی

نام اونچا کملی والے کا شان عالی کملی والے کی

ہے ذات رسائے عرشِ بریں بس خالی کملی والے کی

 

کس درجہ بلندی پر قسمت کا ستارا ہے

محبوبِ خدا جو ہے آقا وہ ہمارا ہے

ماں باپ بہن بھائی کچھ کام نہ آئیں گے

لے دے کے وہی اپنا محشر میں سہارا ہے

 

ہر بحث سے بالاتر ہے ذات محمد کی

محبوبِ خدا وہ ہے کیا بات محمد کی

تا حشر جو ان مٹ ہے بخشا وہ ہمیں قرآں

امت کے لئے دیکھیں سوغات محمد کی

 

تو روبرو رہے کہ نہ تو روبرو رہے

تجھ پر پڑھوں درود تری گفتگو رہے

وہ ربِ ذوالجلال قریبِ گلو رہے

تو اس کا ہے حبیب دل و جاں میں تو رہے

 

ہوں بند آنکھیں تو دیکھوں خواب میں چہرہ محمد کا

کھلیں آنکھیں تو دیکھوں سامنے روضہ محمد کا

چلوں جس راستے پر میں وہ ہو رستہ محمد کا

بنا اس طرح شیدائی مرے اللہ، محمد کا

 

خدا کی توصیف کارِ آساں پہ نعت گوئی بہت ادق ہے

جبینِ رہوارِ طبعِ شاعر تکانِ تگ سے عرق عرق ہے

بنائے تخلیقِ بزمِ کن ہے کتابِ ہستی کا سرورق ہے

وہ اشرف الانبیاء نظرؔ ہے وہ اجمل الناس ما خلق ہے

 

اے خدائے خشک و تر اے خالق و مولائے کل

شکر تیرا کر دیا پیدا نبی ختم الرسل

ناخدائی کی اسی نے نوعِ انساں کی نظرؔ

واقفِ گرداب و مدّ و جزر و دانائے سبل

 

اس کا کلمہ جو پڑھے داخلِ ایماں ہو جائے

اس کا قرآں جو پڑھے صاحبِ عرفاں ہو جائے

اس کی سنت پہ چلے بندۂ یزداں ہو جائے

صاحبِ خلد ہے وہ اس پہ جو قرباں ہو جائے

 

محبت ان کی دل میرا ثنا ان کی زباں میری

خوشا قسمت جو کٹ جائے یونہی عمرِ رواں میری

خدا کا ہے کرم مجھ پر نظرؔ نازاں ہوں میں جس پر

ہے دل حق آشنا میرا زباں حق ترجماں میری

 

رب نے اپنے فضل سے پیدا وہ محسن کر دیا

جس نے اس ظلمت کدے میں آتے ہی دن کر دیا

معجزہ شق القمر کا ایک اعجوبہ ہمیں

اس نے اک انگلی سے ناممکن کو ممکن کر دیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات