اردوئے معلیٰ

نعت خود مہکے گی پھر انفاس تک

لے تو آوٗں مَیں اُسے احساس تک

 

اور کیا مانگیں سخی کے شہر میں

ایک حاجت بھی نہیں ہے پاس تک

 

پُورا قُرآں مدحتِ ممدوحِ کُل

دیکھیے الحمد سے والنّاس تک

 

حوض پر جائیں گے اُن کو دیکھنے

دیکھتی رہ جائے گی پھر پیاس تک

 

تذکرہ کیا اُس گلی کی شان کا

سنگریزے ہوں جہاں الماس تک

 

وہ اجازت نعت کی جب تک نہ دیں

یہ قلم آتا نہیں قرطاس تک

 

اُن کی رحمت کا تعیّن، الاماں

ٹُوٹ جاتا ہو جہاں مقیاس تک

 

نعت کا یہ کیا عجب فیضان ہے

فکر میں رہتا نہیں افلاس تک

 

قبلۂ اہلِ یقیں ہے حُر کی ذات

اور ہے اوجِ وفا عبّاس تک

 

دل اگر بے خود ہُوا تو کیا ہُوا

چومتا ہے یہ زمیں آکاس تک

 

پہلے ہی مقصودؔؔ بن جاتی ہے بات

بات جاتی ہی نہیں ہے یاس تک

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات