اردوئے معلیٰ

Search

نعت سے عشقِ پیہم کی خوشبو آئے

سانس سے دونوں عالم کی خوشبو آئے

 

پھُونک درودِ پاک پیالے کے اندر

چائے میں سے زم زم کی خوشبو آئے

 

گنبد برگِ گل بن جائے آنکھوں میں

دل سے اجلے موسم کی خوشبو آئے

 

آقا ، آپ ہیں وہ تصویر رسالت کی

جس سے پورے البم کی خوشبو آئے

 

ہستی باغ ہو ان کی چارہ سازی کا

زخم کھلے تو مرہم کی خوشبو آئے

 

دین پہ جب ہم ایک ہی صف میں آتے ہیں

بَیری سے بھی پریتم کی خوشبو آئے

 

آنکھوں کے گیندے طیبہ کی یاد میں ہوں

اشک بہے تو شبنم کی خوشبو آئے

 

سینے کی جالی سے لگا یوں جالی کو

دل سے نورِِ مجسم کی خوشبو آئے

 

ذرہ ذکرِ نبی سے پھیل کے سورج ہو

نہر سے وسعتِ قلزم کی خوشبو آئے

 

فیض ہے آپ کا ہم پر یہ جو مٹی سے

خُلد کو حسنِ آدم کی خوشبو آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ