نعت میں کیسےکہوں ان ﷺکی رضا سےپہلے

نعت میں کیسےکہوں ان ﷺکی رضا سےپہلے

میرےماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے

 

نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیں

جلوئہ صاحب لو لاک لما سے پہلے

 

اُن ﷺکا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحر

بھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سےپہلے

 

اب یہ عالم ہے کہ دامن کا سنبھلنا ہے محال

کچھ بھی دامن میں نہ تھا ان ﷺ کی عطا سے پہلے

 

تم نہیں جانتے شاید میرے آقا ﷺ کا مزاج

اُن ﷺ کےقدموں سےلپٹ جاؤ سزا سےپہلے

 

چشم رحمت سے ملا اشک ندامت کا جواب

مشکل آسان ہوئی قصد دعا سے پہلے​

 

میری آنکھیں میرا رستہ جو نہ روکیں اقبال

میں مدینےمیں ملوں راہ نما سے پہلے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ
بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے
بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے
جب تصور میں کبھی گنبد ِ خضراء دیکھوں
ہر شئے میں تیرے نور کا جلوہ ہے یا نبی
رات دے سارے حمیتی زرد پیلے ہوگئے
اگرچہ چشمِ ارادت نظر کنی صاحبؔ
کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں