نعت پڑھئیے سیّد و سردار کی

نعت پڑھئیے سیّد و سردار کی

پائیے رحمت نبی مختار کی

 

چھوڑئیے سب نفرتوں کی گفتگو

کیجیئے اب گفتگو بس پیار کی

 

نور کی محفل سجی ہے آئیے

بگڑی بن جائے گی ہر حبدار کی

 

آ رہی ہے اس طرف بادِ صبا

روح نکھرے گی گل و گلزار کی

 

آپ سے ہی آپ کا سائل ہوں میں

دیجیئے سوغات مجھ کو پیار کی

 

آئیے میرے قریں میرے حبیب

وصّل کی ہے آرزو بیمار کی

 

آرزو تھی دیکھئیے پوری ہوئی

نزدِ آقا قبر یارِ غار کی

 

لاج رکھ لیجے رضاؔ کی حشر میں

یا نبی جی! اپنے عاشق زار کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا
آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں
نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں
ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
نہیں بیاں کی ضرورت، حضور جانتے ہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا

اشتہارات