اردوئے معلیٰ

نعت گوئی میں ہے اک طرفہ مزا کہتے ہیں

نعت گوئی میں ہے اک طرفہ مزا کہتے ہیں

تجربہ ہم کو بھی ہے لوگ بجا کہتے ہیں

 

نامِ نامی کو ترے پیار بھرا کہتے ہیں

سنتے ہی صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ کہتے ہیں

 

حسنِ صورت کو ترے ہوش ربا کہتے ہیں

زہے سیرت جسے قرآں بخدا کہتے ہیں

 

مشکبو ایسی تری زلفِ دوتا کہتے ہیں

ہیچ ہے مشکِ ختن مشکِ خطا کہتے ہیں

 

شان میں آپ کی لولاک لما کہتے ہیں

یعنی کونین کی تم کو ہی بنا کہتے ہیں

 

آپ کی ذات ہے محبوبِ خدا کہتے ہیں

آپ کو عرش پہ بالذات رسا کہتے ہیں

 

شہِ کونین و شہِ ہر دو سرا کہتے ہیں

شہِ دیں ختمِ رسل شمعِ ہدیٰ کہتے ہیں

 

آپ کے در کے سبھی ناصیہ سا کہتے ہیں

روح پرور ہے مدینہ کی فضا کہتے ہیں

 

چار یاروں کو ترے بخت رسا کہتے ہیں

شان میں ان کی قطعہ ایک ذرا کہتے ہیں

 

ق

 

تیرے صدیقؓ کو تصویرِ وفا کہتے ہیں

تجھ کو فاروقؓ ملا حسبِ دعا کہتے ہیں

 

تیرے عثماںؓ کو سراپائے حیا کہتے ہیں

اور حیدرؓ کہ جسے شیرِ خدا کہتے ہیں

 

حشر میں اپنے نظرؔ کی ہو شفاعت شاہا

آپ کو شافعِ محشر بخدا کہتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ