نعمتِ زیست وہ کچھ ایسے عطا کرتے ہیں

نعمتِ زیست وہ کچھ ایسے عطا کرتے ہیں

ہاتھ وہ ڈوبتوں کا تھام لیا کرتے ہیں

 

وہ کوئی دشمنِ جاں ہو کہ کوئی دل کا حبیب

اللہ والے تو دعائیں ہی دیا کرتے ہیں

 

ٹھوکریں مار دیں دنیا کی شہنشاہی کو

آپ کی جو بھی غلامی میں رہا کرتے ہیں

 

دور ہیں شہرِ مدینہ کی فضاؤں سے جو

تم ہی بتلاؤ کہ وہ خاک جیا کرتے ہیں

 

ان کی محفل میں برستے ہیں خزانے واللہ

دامنِ زیست کو رحمت سے بھرا کرتے ہیں

 

اُن کی پرواز کو سمجھے کوئی کیسے تنوؔیر

جو پرندے بھی درود ان پہ پڑھا کرتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ