اردوئے معلیٰ

نغمہ طرازِ نعت رہوں میں تھکے بغیر

 

نغمہ طرازِ نعت رہوں میں تھکے بغیر

عمرِ عزیز صرف ہو میری بہ کارِ خیر

 

میں بھی ترا ہی رند ہوں ساقی نہیں میں غیر

پیمانہ اک مجھے بھی، ترے میکدہ کی خیر

 

دامن چھٹے نہ ان کا اگر چاہتے ہو خیر

اپنی ہی ذات سے کہیں رکھتا ہے کوئی بیر

 

حور و قصور و جامِ طہور اور لحمِ طیر

مجھ کو نہیں قبول یہ سب آپ کے بغیر

 

تیری برابری جو کرے ایک بھی نہیں

نوحؑ و کلیمؑ و یونسؑ و ایوبؑ یا عزیرؑ

 

یہ تاجِ سرفرازی کامل کسے نصیب

کی جلوہ گاہِ عرش کی بس آپ ہی نے سیر

 

داد و دہش ہے شہرۂ آفاق آپ کی

آیا ہوں در پہ آپ کے مجھ کو عطا ہو خیر

 

واللہ تو نے کعبہ کو کعبہ بنا دیا

اک مدتِ دراز سے جو بن چکا تھا دیر

 

نقشِ قدم حضور کا پیشِ نظرؔ رہے

پھر کیا مجال ہے کہ کہیں ڈگمگائیں پیر

 

کام آئیں گے حضور رسالت مآب ہی

کام آئے جس گھڑی کوئی اپنا نہ کوئی غیر

 

مستِ نگاہِ ساقی کوثر ہوں میں نظرؔ

کیا طرفہ بے خودی ہے یہ جام و سبو بغیر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ