نفرتوں کا وسیع دریا ہو

نفرتوں کا وسیع دریا ہو

ہاتھ شل ہو چکے ہیں چپوّ سے

 

ایک دم ہو گیا ہوں پتھر کا

آپ کی گفتگو کے جادو سے

 

دن نکلتا ہے دیکھ کر چہرہ

شب بندھی ہے تمھارے گیسو سے

 

پھر مجھے کاٹنے لگا بستر

اُٹھ گیا تھا کوئی جو پہلو سے

 

اُس نے ٹانکا تھا پھول کالر میں

میں مُعطّرہوں اُس کی خوشبو سے

 

مرتضیٰ یہ سکوت اچھا ہے

جان جاتی ہے میری ہا ہو سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے