اردوئے معلیٰ

Search

نفسیاتِ طالبِ دیدار ، پیچیدہ سہی

دید کھوئی تو نہیں ہے آنکھ نم دیدہ سہی

 

ہنس دیا ہوں شوق کی کھلتی ہوئی اوقات پر

لاکھ موضوعِ شکستِ خواب سنجیدہ سہی

 

فرش میں دھنستے ہیں جیسے خوف کے مارے قدم

آخرِ امید کا عفریت خوابیدہ سہی

 

آج بھی آتا ہے دل معصومیت کے دام میں

رائیگانی ، اب بزعمِ خود جہاندیدہ سہی

 

حافظے پہ نقش ہے جزیات کی تفصیل تک

نکہتِ نوخیزِ شب کا روپ نا دیدہ سہی

 

سرسراتی ہیں ابھی تک آرزو کی چلمنیں

دودھیا ہاتھوں کے دو مخروط لرزیدہ سہی

 

شاعری سے آنچ اٹھتی ہے ترے انفاس کی

تُو بھلے اظہار کی پرتوں میں پوشیدہ سہی

 

داستاں سازی کے دکھ میں ساتھ کیا دیتا کوئی

داستاں گوئی کا ناصر ، شہر گرویدہ سہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ