اردوئے معلیٰ

نقشِ اسمِ مصطفیٰ پر میں فدا ہوتا رہا

نقشِ اسمِ مصطفیٰ پر میں فدا ہوتا رہا

اور نزولِ نعت مجھ پر بے بہا ہوتا رہا

 

آیۂ فَلْیَفْرَحُوْا کے مُتَّبِع جو بھی رہے

مقصدِ تخلیقِ جاں اُن کا ادا ہوتا رہا

 

سطوتِ شاہی کو چھوڑا اُس نے پھر اک شان سے

جو شہنشاہِ مدینہ کا گدا ہوتا رہا

 

نعت گوئی ہے سعادت زورِ گفتاری نہیں

یہ کرم جس پر ہوا ، ہوتا رہا ہوتا رہا

 

مطلعِ اظہار میں لکھا تھا بس نامِ نبی

پھر تو ممدوحِ نبی خود بے نوا ہوتا رہا

 

آنسووں سے ہجر میں دھوتا رہا میں روح کو

داغِ فرقت قلب سے میرے جدا ہوتا رہا

 

چھیڑ کر تارِ درودی دل کے دف کی تھاپ پر

مدحِ آقا کے لیے نغمہ سرا ہوتا رہا

 

حضرتِ موسی سے مل کر بار بار آتے رہے

اور جاے وصل وہ قصرِ دنیٰ ہوتا رہا

 

روز ہی لکھتا رہا میں نعتِ شاہِ دو جہاں

قصرِ مدحت روز ہی جیسے نیا ہوتا رہا

 

صدقۂ اصحاب و آلِ مصطفیٰ ، منظر مجھے

نعت کی صورت عطا صبح و مسا ہوتا رہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ