نقشِ قدمِ سیدِّ والائے مدینہ ﷺ

نقشِ قدمِ سیدِّ والائے مدینہ ﷺ

پھیلے تو ہر اِک سمت نظر آئے مدینہ

 

آقائے مدینہ مرے آقائے مدینہ ﷺ

صحرائے عمل میرا بھی بن جائے مدینہ

 

ہر سمت کھلیں شہر میں گل ہائے مدینہ

ہر وادیِ کردار میں بس جائے مدینہ

 

اسباب تو ہوں دل کی نفاست کے فراہم

ہے یوں تو ہر اِک دل میں تمنائے مدینہ

 

جس قلب پہ کھلتے ہیں بصیرت کے دریچے

بس جاتے ہیں اس قلب میں آقائے مدینہ ﷺ

 

آقا ﷺ کی محبت کے گلاب ایسے کھلیں اب

ہر گوشۂ دنیا میں نظر آئے مدینہ

 

عِشرت ہو کہ عُسرت، رہیں آقا ﷺ ہی نظر میں

ہر حال میں احسنؔ مجھے یاد آئے مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے
جسم کو کیا روح کو بھی قبلہ رو کرتے رہو
بے مثل ولاجواب ہو یکتا تمہی تو ہو
ہم زمانے میں پھرے ، دل کو حرم میں رکھا
امکانِ اوجِ فکر سے اعلیٰ کہوں تجھے
دربار رسالت كی كیسی وہ گھڑی ہوگی
چشمِ بے چین کا چین ‘ دل کا سکوں ‘ روحِ انساں کی لذّت مدینے میں ہے
ذکر سرکار، دو عالم سے سوا رکھا ہے
کرم کے راز کو علم و خبر میں رکھتے ہیں