اردوئے معلیٰ

نمائشِ نیاز میں نہ خواہشِ فراز میں

نمائشِ نیاز میں نہ خواہشِ فراز میں

لکھی ہے نعت محضرِ نجات کے جواز میں

 

شکستہ خواب کو ترس ، گزشتہ یاد میں تڑپ

طلَب کا اندمال ہے طلَب کے ارتکاز میں

 

جمال ، تیری شوکتِ کرم کا ریزہ چینِ خیر

کمال ، مجتمع ہے تیری شانِ امتیاز میں

 

زمانہ حیرتی ترے تحیرِ جمال کا

ٹھہر گیا ہے وقت تیرے عصرِ دلنواز میں

 

ہے کس قدر کرم ترے درود یاب شہر پر

ہے کس قدر سکون تیرے کُوئے خیر ساز میں

 

وہ ایک نام ہی مہِ تمامِ بامِ شوق ہے

وہ ایک ورد ہی نہاں ہے سوز میں گداز میں

 

مَیں بے سبب نہیں ہُوں مطمئن بہ عرصۂ خطَر

ہے اذنِ عفو تیرے دستِ مغفرت مجاز میں

 

دلا ! ابھی کہاں ہے تجھ میں تاب ضبطِ ہجر کی

دلا ! ابھی قیام کر حریمِ چارہ ساز میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ