اردوئے معلیٰ

نوازشاتِ شہہ انبیاء کے طالب ہیں

سبھی سفینے اسی ناخدا کے طالب ہیں

 

مرے جہان تمنا ، مرا دیار نظر

تجلیاتِ حبیبِ خدا کے طالب ہیں

 

جہان رشد و ہدایت کے قافلے والے

بھٹک گئے ہیں ترے نقشِ پا کے طالب ہیں

 

حضور! اذنِ حضوری کی بخش دیں سوغات

مریض ہجر ہیں ہم اور دوا کے طالب ہیں

 

فنا کا دشتِ زیاں بے کنار ، منزل دور

حضور! آپ سے جامِ بقا کے طالب ہیں

 

مرا خیال مرا نطق میرے فہم و ذکا

حضور آپکی مدح و ثنا کے طالب ہیں

 

امامِ لطف و عنایات ! قاسم نعمت !

فقیر آپکے دستِ عطا کے طالب ہیں

 

طوافِ روضہ میں رہتے ہیں رات دن مصروف

یہ مہر و ماہ نبی کی ضیا کے طالب ہیں

 

صدف کے قلب و نظر، ذہن و فکر ہوش و خرد

الہی جلوۂ غار حرا کے طالب ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات