نوجوان سپاہی گھر سے رخصت ہوتا ہے

دشمن ازل سے گردشِ چرخِ کُہن کا ہوں

تلوار کا دھنی ہوں تو میں شیر رَن کا ہوں

ہوں روح خاندان کی ، پھول اِس چمن کا ہوں

بھائی بہن کا پیارا عزیز انجمن کا ہوں

مجبور ہوں مگر کہ سپاہی وطن کا ہوں

 

اے بوڑھے باپ رُخصتِ میدانِ جنگ دے

چہرے کو میرے سُرخیٔ غیرت سے رنگ دے

کر یہ دعا ، خدا مجھے لڑنے کا ڈھنگ دے

تاب کمان و تیغ و سنان و تفنگ دے

ہو ہم عناں ظفر کہ سپاہی وطن کا ہوں

 

اے ماں! یہ تیری آنکھیں ہیں نمناک کس لیے ؟

ڈالی ہے تو نے چہرے پہ ہاں خاک کس لیے ؟

ہوتی ہے ایسے وقت میں غمناک کس لیے ؟

رو رو کے کر رہی ہے جگر چاک کس لیے ؟

دل میں نہ لا خطر کہ سپاہی وطن کا ہوں

 

تجھ جیسی لاکھ مائیں وطن میں ہیں سوگوار

دل اُن کے چاک چاک ، گریباں ہیں تار تار

کر مادرِ وطن کے غموں کا ذرا شمار

عزت پہ ملک و قوم کی کر دے مجھے نثار

سر ہے وطن کا سر کہ سپاہی وطن کا ہوں

 

چُپ لگ گئی ہے تجھ کو شریکِ حیات کیوں ؟

فرطِ الم سے کرتی نہیں آج بات کیوں ؟

خالی ہیں چوڑیوں سے ترے دونوں ہات کیوں ؟

افسردہ ہو گئی ہے تری کائنات کیوں ؟

تجھ کو بھی ہے خبر کہ سپاہی وطن کا ہوں

 

تُجھ کو مرا فراق جو تڑپائے بھی تو کیا

سیندور تیری مانگ کا دُھل جائے بھی تو کیا

میدانِ جنگ میں مجھے موت آئے بھی تو کیا

اس زندگی میں رانڈ تُو کہلائے بھی تو کیا

اس پر بھی رکھ نظر کہ سپاہی وطن کا ہوں

 

لاکھوں سُہاگنیں ہیں وطن کی ملول آج

لاکھوں سروں میں دیکھ رنڈاپے کی دُھول آج

دُکھ اِن کا اپنے دُکھ میں سہاگن کی نہ بھول آج

کر فتح کی دعا کہ ہو شاید قبول آج

ہو جائے کچھ اثر کہ سپاہی وطن کا ہوں

 

اس سرفروش شیرِ ژیاں کا سلام لے

آنکھوں کا لے سلام ، زباں کا سلام لے

بازو کا ، سر کا ، تاب و تواں کا سلام لے

اے خاندان اپنے جواں کا سلام لے

رخصت خوشی سے کر کہ سپاہی وطن کا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ