نورِ حق نے اس طرح پیکر سنوارا نور کا

نورِ حق نے اس طرح پیکر سنوارا نور کا

نور گویا بن گیا ہے استعارہ نور کا

 

ہے کوئی ایسا بشر اس عالمِ امکان میں؟

سر سے پاؤں تک ہو جو اک شاہ پارا نور کا

 

نور دل ہے، نور سینہ، نور پیکر، نور جاں

نور کا سورہ ہے گویا استعارا نور کا

 

جو حجاباتِ خداوندی میں چمکا مدتوں

جالیوں سے دیکھ آیا ہوں وہ تارا نور کا

 

رات زلفوں کی بلائیں لے کے پیچھے ہٹ گئی

سانس لے کر صبح نے صدقہ اتارا نور کا

 

انشراحِ قلب و سینہ کا بیاں قرآن میں

نور کے دریا میں گویا ہے یہ دھارا نور کا

 

سرحدِ قوسین سے بھی ماورا معراج میں

بزم ’’او ادنی‘​‘​ میں چمکا اک ستارا نور کا

 

چاند، سورج، کہکشاں، تارے، دھنک اور روشنی

نور کے دریوزہ گر پائیں اتارا نور کا

 

ایک درِ بے بہا ہے یا ہے قطرہ نور کا

میری پلکوں پر فروزاں ہے جو تارا نور کا

 

سینہ بریاں، دیدہ گریاں کیجیے مجھ کو عطا

میرے دل پر بھی ہمیشہ ہو اجارا نور کا

 

اک نگاہِ لطف فرما دیجیے ہم پر حضور

ہم کو بھی درکار ہے بس اک اشارا نور کا

 

یا رسول اللہ اپنی کاوشیں مقبول ہوں

یہ ’’فروغِ نعت‘​‘​ بن جائے ادارہ نور کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں
یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرےؐ لیے
خیال افروز ہے نام محمدﷺ
میں سیہ کار خطا کار کہاں
ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ
نہ ایسا کوئی تھا نہ ہے وہ پیکرِ جمال ہے
شاعر بنا ہوں مدحتِ خیرالبشر کو میں
لوحِ دل پر جو تنزیلِ مدحت ہوئی نطق مدحِ محمد کا خو گر ہوا
مُنہ سے جب نامِ شہنشاہِ رسولاں نکلا
معدن جود و عطا شاہِ مدینہ آقا