نور آنکھوں میں تو چہروں پہ اُجالے ہوں گے

نور آنکھوں میں تو چہروں پہ اُجالے ہوں گے​

مصطفی والوں کے انداز نرالے ہوں گے​

 

حشر میں اُن کی شفاعت کے حوالے ہوں گے​

ہم گنہگاروں کو سرکار سنبھالے ہوں گے​

 

نزع میں ان کے تصور سے مقدر چمکا​

قبر میں اب تو اُجالے ہی اُجالے ہوں گے​

 

اُن کی ہر ایک صفت جب کہ ہے اعجاز نصیر​ؔ

نعت گوئی کے بھی انداز نرالے ہوں گے​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ